’اب تو بس کردو‘ پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ پھر کھلنے لگی، عالمی ادارہ صحت بھی چین سے عاجز آگیا

’اب تو بس کردو‘ پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ پھر کھلنے لگی، عالمی ادارہ صحت بھی چین سے عاجز آگیا


’اب تو بس کردو‘ پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ووہان میں جانوروں …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے شہر ووہان میں، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا، لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد زندگی معمول پر آ گئی ہے اور ایک بار پھروہی جنگلی جانوروں کے گوشت کی مارکیٹس دوبارہ کھلنی شروع ہو گئی ہیں جہاں بکنے والے چمگادڑ اور سانپ وغیرہ سے کورونا وائرس انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ووہان کی اس گوشت مارکیٹ میں دوبارہ سٹالزکھلنے پر جہاں باقی دنیا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہے وہیں عالمی ادارہ صحت بھی عاجز آ گیا ہے اور چین کو ہدایت کر دی ہے کہ اب بس کریں، ایسی خطرناک مارکیٹس اب بند کر دیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے چین کے علاوہ دیگر ان ممالک کو بھی یہ ہدایت کی گئی جہاں جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ایسے تمام ممالک گوشت کی یہ خطرناک مارکیٹس بند کر دیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دیگر عالمی طبی تنظیموں نے ووہان کی گوشت مارکیٹ کھلنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی جانوروں میں کوروناوائرس سمیت کئی خطرناک قسم کے وائرس ہوتے ہیں جو ان کا گوشت کھانے سے باآسانی انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مارکیٹس اسی طرح چلتی رہیں تو کورونا وائرس کی طرح دنیا کسی بھی وقت کسی اور بڑی آفت کی زد میں آ سکتی ہے۔یہ مارکیٹس دنیا کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں چنانچہ انہیں بند کر دینا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار ڈاکٹر ڈیوڈ نیبرو کا کہنا تھا کہ ”ہم حکومتوں سے اور لوگوں سے التماس کرتے ہیں کہ اب وہ اس بات کو سمجھیں کہ جانوروں میں پائے جانے والے وائرسز کتنے طاقتور اور خطرناک ہوتے ہیں۔ ہم حکومتوں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ تاہم ہم تمام ممالک کو نصیحت کریں گے کہ وہ ایسی تمام مارکیٹس کو بند کر دیں۔“

مزید : بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے