اربوں روپے کی سبسڈی بٹورنے کیلئے شوگر ملیں کیا کام کرتی ہیں؟ تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر

اربوں روپے کی سبسڈی بٹورنے کیلئے شوگر ملیں کیا کام کرتی ہیں؟ تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر


اربوں روپے کی سبسڈی بٹورنے کیلئے شوگر ملیں کیا کام کرتی ہیں؟ تہلکہ خیز …

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت سے اربوں روپے کی سبسڈی بٹورنے کیلئے شوگر ملز مالکان مختلف ہتھکنڈے اپناتے رہتے ہیں ۔ شوگر ملز مالکان گندم ملک سے باہر بھجوانے کے نام پر حکومت سے سبسڈی اور مراعات لیتے ہیں تاہم فوائد حاصل کرنے تک چینی کو ملک میں نامعلوم جگہ پر سٹور کرلیا جاتا ہے۔

جیسے ہی حکومتی مفادات موصول ہوجاتے ہیں چینی کو مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت کردیا جاتا ہے۔

اس طرح کا ایک سکینڈل چارجنوری دوہزار سترہ میں بھی سامنے آیا تھا جب پشاور کے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن نے پانچ ہزار چارسو بیس میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا ایک فراڈ سامنے لے آیا تھا۔ یہ چینی چارہزار آٹھ سو چھ تھیلوں میں پشاور کے رنگ روڈ پر واقع ایک غیر قانونی ویئر ہاوس میں ذخیرہ کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کا تذکرہ آج بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیاجارہاہے۔

اس واقعے کو کسٹم ٹوڈے نے بھی رپورٹ کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ چھ شوگر ملز جن میں جہانگیر ترین اور شریف خاندان کی ملز شامل تھیں نے باہم مل کر اس فراڈ میں حصہ لیا۔ اس رپورٹ کے مطابق فراڈ کرنے والی ان 6 ملز میں ایم ایس چودھری شوگر ملز لمیٹڈ، دی تھل انڈسٹری کارپوریشن لمیٹڈ ، ایم ایس باوانی شوگر ملز لمیٹڈ، ایم ایس حمزہ شوگر ملز لمیٹڈ، ایم ایس اشرف شوگر ملز لمیٹڈاور ایم ایس جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز شامل ہیں۔

انہی ملز نےسبسڈی حاصل کرنے کیلئے باہم  مل کر 4806تھیلے جعلی جی ڈیز کے ذریعے افغانستان بھیجنے کادعویٰ کیا، اسی دوران انہوں نے ایکسپورٹ کی مد میں مذکورہ مقدار کیلئےسرچارج %0.25 جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس ایک فیصد کرالیا اور دس روپے فی کلو گرام  ایکسپورٹ سبسڈی حاصل کرلی ۔

رپورٹ کے مطابق کسٹم کی جانب سے غیر قانونی ویئر ہاوس سے پکڑے گئے  ان تھیلوں پر "برائے ایکسپورٹ ٹو افغانستان” کے الفاظ درج تھے تاہم حکومتی سبسڈی حاصل ہونے اور بیرون ملک بھجوانے کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے  بعد یہ  چینی مقامی مارکیٹ میں اصل نرخوں پر بیچ کر وہاں سے بھی منافع کمایا گیا جبکہ اس پر ٹیکس کی مد میں بھی بھاری رقم بچائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اس فراڈ میں شوگر ملز نے شایان انٹرنیشنل  کسٹمز کلیئرنگ ایجنسی، ایم ایس ابرار کسٹمز ایجنسی طورخم، عبدالعزیز خان ، داود شاہ، نواب خان آف کسٹمز سٹیشن طورخم اور سٹاف ممبرز کے ساتھ مل کر اس فراڈ پر عملدرآمد یقینی بنایا۔ ان ایجنسیوں نے برآمدات کے حوالے سے تمام تر جعلی شواہد پیش کیے جس کے بعد سبسڈی کے حصول کی راہ ہموار ہوئی۔

مزید : قومی /بزنس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے