”اس وقت ان کی ایمانداری کہاں جاتی ہے جب۔۔۔“ سلمان بٹ بھی بالآخر پھٹ پڑے، ناقدین کو آڑے ہاتھوں لے کر ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے

”اس وقت ان کی ایمانداری کہاں جاتی ہے جب۔۔۔“ سلمان بٹ بھی بالآخر پھٹ پڑے، ناقدین کو آڑے ہاتھوں لے کر ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے


”اس وقت ان کی ایمانداری کہاں جاتی ہے جب۔۔۔“ سلمان بٹ بھی بالآخر پھٹ پڑے، …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان سلمان بٹ نے بھی میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی قومی ٹیم میں واپسی سے متعلق جاری بحث میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور ناقدین کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سزا پوری کرنے کے بعد قانون کے مطابق ہر کھلاڑی کیساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ ”موجودہ قانون کے مطابق کھلاڑیوں کیساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھنا چاہئے۔ سزا کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے مقررہ مدت پوری کر لی ہے تو پھر آپ کو بھی دوسرے کھلاڑیوں کی طرح ہی دیکھا جائے۔ میں اس طرح کے معاملے میں بولنے کی کوشش نہیں کرتا لیکن میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اس معاملے میں بول رہے ہیں۔ ان لوگوں کی ایمانداری اس وقت کہاں جاتی ہے جب یہ ایسے لوگوں کیساتھ کام کرتے ہیں؟ جب یہ ایسے کھلاڑیوں کی حمایت کرتے ہیں جو اپنے کنکشنز استعمال کر کے حق دار کا حق مار کر قومی ٹیم میں شامل ہو جاتا ہے، تب ان کی ایمانداری اور دیانت داری کہاں ہوتی ہے؟ ان کھلاڑیوں کی نااہلی کی وجہ سے جب پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچاتا ہے، اس وقت ان کی ایمانداری کہاں ہوتی ہے؟“

سلمان بٹ نے کہا کہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی کھلاڑی کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا ”انہیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ اگر ہر کوئی ایسی باتیں شروع کر دے گا تو پھر یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔ ایسے بہت سے لوگوں کو 15 ویں کھلاڑی کے طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا جن کے تعلقات تھے جبکہ بہت سے کھلاڑیوں نے معنی خیز اور عمدہ کارکردگی دکھانے کے باوجود کم بیک کیا، میں کسی کا نام نہیں لیتا لیکن ایسا ہی ہوا، ایسے معاملات کو سنبھالنا آئی سی سی اور پی سی بی کا کام ہے اور کسی کھلاڑی کو اس حوالے سے بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔“

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے