اس گیم کے ذریعے سائنسدانوں کو کورونا وائرس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور وہ چاہتے ہیں آپ یہ گیم کھیل کر مدد کریں

اس گیم کے ذریعے سائنسدانوں کو کورونا وائرس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور وہ چاہتے ہیں آپ یہ گیم کھیل کر مدد کریں


اس گیم کے ذریعے سائنسدانوں کو کورونا وائرس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ جانتے ہوں گے کہ دنیا بھر کے سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ایسے میں کئی ممالک میں لاک ڈاﺅن ہے اور لوگ گھروں میں مقید ہیں جہاں ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں مگر آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ گھر میں فارغ بیٹھنے کی بجائے آپ کورونا وائرس کی دوا ایجاد کرنے میں سائنسدانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور وہ بھی صرف ایک گیم کھیل کر۔ یہ بات سننے میں یقینا فضول سی لگے گی مگر یہ ایک حقیقت ہے اور اب تک سائنسدان اس گیم کے ذریعے عام لوگوں کی مدد سے کئی اہم ادویات ایجاد کر چکے ہیں۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق یہ دراصل ایک ’پزل گیم‘ ہے جس میں آپ کو مختلف ٹکڑے درست طریقے سے جوڑ کر اشکال مکمل کرنی ہوتی ہیں۔ آپ اس گیم میں اپنی مرضی کی نئی شکل بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ ٹکڑے جوڑنے سے یہ پروٹینز کی ایک لڑی بن جاتی ہے جس کی ترکیب مختلف ہوتی ہے۔ سائنسدان عام لوگوں کے تیار کردہ ان نئے پروٹینز کا تجزیہ کرتے ہیں، جس سے بسااوقات انہیں کسی نئی دوا کی تیاری میں مدد مل جاتی ہے۔ یہ گیم ایک سائنسی منصوبہ ہے جس کا نام ’دی سٹیزن سائنس پراجیکٹ‘ ہے۔ اسے ’فولڈٹ‘ (Foldit)کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ اس گیم کو کمپیوٹر پر کھیل سکتے ہیں۔

یہ پراجیکٹ تیار کرنے والی لیبارٹری دنیا کی چند بڑی لیبارٹریز میں سے ایک ہے جس کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ بیکر ہیں۔ موناش یونیورسٹی کی پروٹین انجینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر ایشلے بکل نے اس پراجیکٹ کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ”یہ بات سننے میں احمقانہ لگتی ہے، بھلا عام لوگ ادویات کی تیاری میں سائنسدانوں کی کیا مدد کر سکتے ہیں مگر یہ پراجیکٹ آج شروع نہیں ہوا۔ یہ 10سال سے چل رہا ہے اور اس طریقے سے عام لوگوں کی مدد لے کر سائنسدانوں کو کئی کامیابیاں مل چکی ہیں۔ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک پروٹین تیار کیا تھا۔ پھر ایک عام آدمی نے اس گیم کے ذریعے ایک شکل ترتیب دی اور جب اس کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سائنسدانوں کے اس تیار کردہ پروٹینز سے 20گنا زیادہ طاقتور پروٹین تھا۔ اسی طرح پروٹینز کی شکل توڑنے کے حوالے سے بھی ایک بڑی کامیابی ملی جو ایڈز کے علاج کے لیے بہت مددگار ثابت ہوئی۔اس کام کے لیے سائنسدان دہائیوں سے جدوجہد کر رہے تھے، جو ایک عام آدمی کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے