انڈیا میں تبلیغی جماعت کے سربراہ کیخلاف قتل خطا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج الزام کیا لگایا گیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

mobile logo


انڈیا میں تبلیغی جماعت کے سربراہ کیخلاف قتل خطا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، …

نئی دہلی (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلائو جاری ہے لیکن پڑوسی ملک بھارت میں   تبلیغی جماعت کے سربراہ محمد سعد کندھالوی کے خلاف دہلی پولیس نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ذریعے ملک بھر میں کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات پر قتل خطا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ۔پولیس  نے موقف اپنایا کہ  تین مارچ کو شروع ہونے والے تبلیغی اجتماع کو اس وقت بھی ختم نہیں کیا گیا جب 24 مارچ کو حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ یادرہے کہ مودی سرکار کو مسلمان مخالف اقدامات کا ایک اور بہانہ مل گیا ہے اور ریاست میں کورونا کے پھیلائو کا اہم ذریعہ تبلیغی جماعت کو قراردیا جارہاہے تاہم  تبلیغی جماعت اور اس کے رہنما سعد کندھالوی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بی بی سی کے مطابق دہلی کی پولیس کا کہنا ہے کہ سعد کندھالوی پر بڑے پیمانے پر جو الزامات عائد کیے ہیں ان کی وجہ سے وہ ضمانت کے لیے درخواست بھی نہیں دے سکیں گے، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ  سعد کندھالوی وائرس سے بچاؤ کے لیے اس خود آئسولیٹ ہیں ۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھیں حکام کی جانب سے دو نوٹس بھی دیے گئے تاہم انھوں نے دہلی کے نظام الدین نامی علاقے کی ایک مسجد میں اجتماع جاری رکھا تاہم   تبلیغی جماعت کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 22 مارچ کو ملک گیر ایک روزہ کرفیو کے اعلان کے فوراً بعد انھوں نے یہ اجتماع ختم کرتے ہوئے وہاں موجود تمام شرکا کو اپنے اپنے گھروں میں واپس جانے کا کہا تھا۔اجتماع کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ واپس چلے گئے تھے لیکن بہت سے لوگ وہاں پھنس گئے تھے کیونکہ اگلے ہی دن مختلف ریاستوں نے اپنی سرحدیں بند کرنا شروع کر دی تھیں اور دو دن بعد پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہو گیا تھا اور بسیں اور ٹرینیں چلنا بند ہو گئیں تھیں،اس صورت حال سے پولیس کو آگاہ کر دیا تھا اور طبی عملے سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے انھیں مسجد میں آ کر اس جگہ کا معائنہ کرنے میں بھی مدد دی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے