اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے خانہ بدوش افراد اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ کام میں مشغول، کوئی فلاحی ادارہ کورونا وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے نہ پہنچ سکا

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے خانہ بدوش افراد اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ کام میں مشغول، کوئی فلاحی ادارہ کورونا وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے نہ پہنچ سکا


اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے خانہ بدوش افراد اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے …

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر )اس وقت  پورا ملک کوروناوائرس کی وبا سے خوفزدہ  ہے اور اس وبا سے بچنے کیلئےصوبے بھرمیں سندھ  سرکار کی جانب سےحفاظتی  تدابیر پر عملدرآمد کےلیے  گذشتہ 13دنوں سے لاک ڈاؤن  کی صورتحال ہے لیکن ضلع عمرکوٹ کی انتظامیہ اورمحکمہ ہیلتھ  کی نااہلی غفلت لاپرواہی  کےباعث عمرکوٹ  شہر اور اسکے گردونواح  کے گاؤں گوٹھوں میں ایسے  خاندان بھی بستےہیں جنہیں یہ بھی آگاہی نہیں دی کہ یہ کورونا وائرس کیا  وبا ہے ،اس سےکس طرح بچنا ہے ، کیا کرناہے  ، کسی کو کوئی پتا نہیں کہ کوروناوائرس کیاہے   ۔

صوبائی حکومت کا اسپیشل کورونا بجٹ کہاں خرچ ہورہاہے نہ ماسک نہ سینٹائیزر اور نہ ہی تین فٹ کا  فاصلہ یہ ہے عمرکوٹ کے قریب بسنے والے غریب  محنت کش جنکو ابھی تک یہ پتا نہ چل سکا کہ کوروناوائرس کی کوئی وباہےجو دنیامیں ابتک   ہزاروں جانیں نگل چکاہے عمرکوٹ سے تین کلومٹیر دور ہیرآباد میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے خانہ بدوش افراد اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ اپنے روزگار کےلیے  اجرت میں مشغول ہیں ان کے پاس نہ ضلع اتنظامیہ  نہ  محکمہ ہیلتھ اور نہ ہی کوئی فلاحی ادارہ نہ پہنچ سکا جو  موت بانٹنےوالی وبا کورونا وائرس سے  متعلق آگاہی فراہم کریں ۔

عمرکوٹ کےایک  صوبائی وزیر  جوکہ اس وقت وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے  بنائی گئی کورونا وائرس کمیٹی کے ضلع عمرکوٹ کے فوکل پرسن بھی ہیں ان کا گھر آدھا کلومیٹر کے مفاصلے پر  ہےوہاں کے ایسے حالات ہیں تو دیگر جگہوں کا کیا حال ہوگا ان  غریب مزدوروں کاکہناہےکہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہےکہ کوروناوائرس کیاہے ہمیں توصرف  اپنے  روزگاراور تین وقت کی روٹی پانی کی فکرہے یہ بھٹہ مزدور اپنےبچوں کے پیٹ پالنے کیلئے تپتی دھوپ میں بھی سخت محنت کرنےوالے یہ خانہ بدوش صرف یہ سمجھتےہیں کہ اگر گھر سارے افراد مل کر کام نہیں کریں گے تو دو وقت کی روٹی کا اہتمام نہیں ہوسکےگا ۔

افسوس کامقام تو  یہ  ہےکہ ابھی تک تاحال ان  علاقوں میں حکومت یا انتظامیہ کی  جانب سے کوئی رلیف کاکام بھی شروع نہیں ہوسکاہےان غریبوں کو یہ بھی نہیں معلوم نہیں کہ وفاقی حکومت نےکوئی احساس ایمرجنسی پروگرام شروع کررکھاہےحکومتی راشن کاحصول کاطریقہ کار کیاہے ان  غریب مزدوروں کاکہناہےکہ ہمارے پاس ہرشخص کےپاس موبائل نہیں ہےاورنہ ہی ہمیں مسیج کاطریقہ کار معلوم ہے   شہروں میں سخت لاک ڈاؤن  اور جبکہ اس کی گردونواح  میں کوئی توجہ نہ دینا کورونا وائرس  جیسی وبا کو گھر بیٹھے دعوت دینے کے متعدارف ہے ایسے میں ضلع انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو ٹھوس اقدامات لیناہوں گےعمرکوٹ کےسماجی عوامی  حلقوں نے حکام بالا سے  مطالبہ کیاہےکہ محکمہ ہیلتھ اور انتظامیہ کی کارگردگی کو بہتربناناہوگااور ان غریب لوگوں کی بستیوں میں حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنا ہوگا ۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے