ایک اور ڈاکٹر کورونا کا شکار لیکن یہ کیسے متاثر ہوئے اور ہسپتال میں نئے مریضوں کا داخلہ کیوں بندکردیاَ؟ افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں

ایک اور ڈاکٹر کورونا کا شکار لیکن یہ کیسے متاثر ہوئے اور ہسپتال میں نئے مریضوں کا داخلہ کیوں بندکردیاَ؟ افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں


ایک اور ڈاکٹر کورونا کا شکار لیکن یہ کیسے متاثر ہوئے اور ہسپتال میں نئے …

کراچی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے سرکاری و نجی اسپتالوں میں طبی عملہ اور ڈاکٹرز بھی متاثر ہونے لگے جب کہ شہید بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے آئی سی یو میں کام کرنے والے 35 سالہ ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، شہید بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر آئی سی یو میں کام کرنے والے ڈاکٹر نوید جتوئی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی متاثرہ ڈاکٹر کی عمر 35 سال ہے، ڈاکٹر نوید کاسول اسپتال میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا، ٹیسٹ کے نتائج منفی آنے پر کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی، ڈاکٹر نوید جتوئی گھر میں قرنطین ہیں جبکہ ان کے ساتھ کام کرنیوالے عملے کوچھٹیوں پر بھیجے جانےکی وجہ سے سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور نئے مریضوں کو بھی داخل نہیں کیا جارہا۔

ایکسپرس کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر نوید جتوئی  کا کہنا تھا کہ مجھے سوکھی کھانسی تھی جس کے بعد ڈاکٹرز کے مشورے پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا اور ٹیسٹ کے نتائج میں وائرس کی تشخیص ہوئی، ایکسرے بھی کروایا تھا جو صحیح آیا تھا، کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد خود کو گھر میں قرنطین کر لیا ہے اور گھر والوں سے خود کو الگ کرلیا ہے، گھر والوں میں سے کوئی متاثر نہیں ہوا ہے۔شہید بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر اعجاز زبیری نے  بتایا کہ ہمارے پاس ایک ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، متاثرہ ڈاکٹر رابطے کے ذریعے متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور ٹیسٹ کی سہولیات نہیں ہیں، کورونا وائرس رابطوں کے ذریعے ملک بھر میں پھیل رہا ہے، ڈاکٹر میں تشخیص ہونے کے بعد ہم نے متاثرہ ڈاکٹر کو گھر بھیج دیا ہے جبکہ ان کے ساتھ آئی سی یو میں کام کرنے والے عملے کو بھی چھٹیاں دے دی گئی ہیں۔

پی پی ای کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ تمام یونٹس میں تمام ملازمین کو وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی سامان فراہم کیا ہوا ہے اور ماسک کے استعمال کو بھی یقینی بنایا ہوا ہے۔

رپورٹ میں سپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ  آئی سی یو میں عملے کو چھٹیاں دینے کے بعد عملے کی شدید کمی کے باعث نئے مریضوں کو عارضی طور پر داخل نہیں کیا جارہا ہے، تاہم کراچی سمیت سندھ بھر میں پی پی آئی (پرسنل پروٹیکٹوو ایکوپمنٹ) کی عدم فراہمی اور بے احتیاطی کے باعث طبی عملہ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہورہا ہے، کراچی میں نجی و سرکاری اسپتالوں میں 7 سے زائد ڈاکٹرز و طبی عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکا ہے۔عباسی شہیدہسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر، این آئی سی ایچ میں چار ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف اور شہید بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے ایک ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، الخدمت اسپتال گلشن حدید کے ایڈمنسٹریٹوو و معروف ماہر امراض جلد ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کورونا وائرس کے باعث انڈس اسپتال میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ترجمان لیاقت لیاقت نیشنل اسپتال کے مطابق ریڈیالوجسٹ تبلیغی اجتماع سے واپس آئے تھے جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ دیگر نجی اسپتالوں میں بھی ڈاکٹرز و طبی عملے میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے 4 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔این آئی سی ایچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال رضا کے مطابق 2 ڈاکٹرز اور 2 پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں، چاروں ملازمین کو گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، جس شعبہ میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف تعینات تھے وہ خالی کرا لیے ہیں اور ان شعبوں میں فیومیگیشن کی گئی ہے۔

دریں اثنا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو اسپتالوں میں پی پی ای (پرسنل پروٹیکٹوو ایکو) کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی سامان فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سلطان کے مطابق ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف حفاظتی سامان دیا جائے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے