بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث عبدالماجد کو پھانسی دیدی گئی

بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث عبدالماجد کو پھانسی دیدی گئی


بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث عبدالماجد کو پھانسی دیدی گئی

ڈھاکہ (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث ایک سابق فوجی کیپٹن عبدالماجد کو سزا سنائے جانے کے 25؍ سال کے بعد پھانسی دیدی گئی۔

عبدالماجد کو 1998ء میں دیگر 12فوجی افسران کے ساتھ قتل کے جرم میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔

یادر ہے کہ بنگلا دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث مفرور بنگلا دیشی فوجی کیپٹن کو 25 سال بعد گرفتار کیا گیا، جس کے بعد اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تیاریاں شروع کر دی گئیں تھیں۔ شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے جرم میں عبدالمجید کو دیگر فوجی افسران کے ہمراہ موت کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ فرار ہو کر بھارت چلا گیا تھا۔عبدالمجید چند روز قبل ہی بنگلا دیش واپس آیا تھا اور مخبری پر پکڑا گیا، شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے الزام میں اس کے دیگر ساتھیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔بنگلا دیشی وزیرِ انصاف کا کہنا تھا کہ مفرور کیپٹن عبدالمجید کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھی اور اب عمل درآمد کردیاگیا۔اس سے قبل بنگلا دیشی کے وزیرِ انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ مفرور کیپٹن بنگلا دیشی صدر عبدالحمید سے رحم کی اپیل کر سکتا ہے۔

 ذرائع نے بتایا کہ بنگلا دیش کے صدر عبدالحمید چونکہ مقتول شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی اور موجودہ وزیرِ اعظم بنگلا دیش شیخ حسینہ واجد کے قریب ہیں اس لیے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ رحم کی اپیل مسترد کر دی جائے گی ۔واضح رہے کہ بنگلا دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمان اور ان کے دیگر اہلِ خانہ کو 15 اگست 1975ءکو ہونے والی ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا،حسینہ واجد اور ان کی بہن شیخ ریحانہ اس وقت یورپ میں ہونے کی وجہ سے اس قاتلانہ حملے سے محفوظ رہی تھیں۔

مزید : بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے