بھارت میں حاملہ خاتون کو کورونا وائرس کی مشتبہ مریض کہہ کر خالی کمرے میں رکھ دیا پھر وہاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے اور پھر۔۔افسوسناک ترین خبر آ گئی

بھارت میں حاملہ خاتون کو کورونا وائرس کی مشتبہ مریض کہہ کر خالی کمرے میں رکھ دیا پھر وہاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے اور پھر۔۔افسوسناک ترین خبر آ گئی


بھارت میں حاملہ خاتون کو کورونا وائرس کی مشتبہ مریض کہہ کر خالی کمرے میں رکھ …

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) بھارت کے ایک ہسپتال میں کورونا وائرس کی مشتبہ مریضہ بتا کر حاملہ خاتون کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا جہاں دو دن تک طبی عملے نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہار کے ہسپتال انوگرا نارائن مگدھ میں 25 سالہ حاملہ خاتون چیک اپ کے لیے آئیں تو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا شک ظاہر کرتے ہوئے انہیں آئسولیشن وارڈ میں داخل کرلیا گیا جہاں دو دن تک طبی عملہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتا رہا۔ ٹیسٹ منفی آنے پر خاتون کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

خاتون جن کا حمل پہلے ہی ضائع ہوچکا تھا، گھر جانے کے بعد طبیعت بگڑ گئی اور واپس ہسپتال لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دیا، خاتون نے ایمبولینس میں ساس کو بتایا تھا کہ آئسولیشن وارڈ میں 3 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے جس پر ساس نے پوری روداد پولیس کو بتادی۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے اسپتال کے ایک ملازم شیو شنکر کو حراست میں لے لیا ہے جس نے ابتدائی بیان میں دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کرلیا ہے۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائی جاری ہے۔

مزید : بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے