بھارت میں کورونا سے متاثرہ مسلمانوں کو ہندو مریضوں سے علیحدہ کردیا گیا

mobile logo


بھارت میں کورونا سے متاثرہ مسلمانوں کو ہندو مریضوں سے علیحدہ کردیا گیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) مودی سرکاری میں بھارت کے گلی کوچوں میں بڑھتی مسلم دشمن سوچ ہسپتالوں میں بھی پہنچ چکی ہے اور اس کا حالیہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب احمد آباد میں کورونا وائرس کے مسلمان مریضوں کے وارڈز ہندوئوں سے جدا کر دیے گئے۔

بھارت میں کورونا کے نام پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔حال ہی میں جب تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد میں کورونا مثبت آیا تھا تو بھارت کے متعصب میڈیا نے آسمان سرپر اٹھاتے ہوئے ملک میں کورونا پھیلنے کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کردی تھی۔بھارتی میڈیا کی جانبداری کے باعث بھارت میں مسلمانوں کے حوالے سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور متعدد علاقوں میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اب بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں مسلمانوں سے تعصب کا مظاہرہ سامنے آیا ہے جہاں کورونا وائرس کے 40 مسلمان مریضوں کو وبا کے شکار 110 ہندوئوں سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق احمد آباد سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایسا کرنے کی ہدایات ملی ہیں۔خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ساڑھے 11 ہزار ہوچکی ہے جب کہ 405 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامیکورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے