تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں،جمعیت علمائے اسلام ف بھی میدان میں آگئی

تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں،جمعیت علمائے اسلام ف بھی میدان میں آگئی


تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں،جمعیت علمائے اسلام ف بھی میدان میں …

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماءاسلام ف کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے کہا کہ تبلیغی جماعت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں،حکومت لاک ڈاؤن کے دوران حساس بارڈرز کی روک تھام کو یقینی بنائے جہاں سے کرونا وائرس ملک میں داخل ہورہا ہے،گھروں،ڈیروں اور محلوں میں محصورین کیلئے راشن فراہمی کی باتیں صرف اعلانات تک محدود ہیں،دعوت و تبلیغ کی عالمگیر تحریک کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا بدترین ظلم اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے،دنیا کے سب سے بے ضرر طبقے کو تختہ مشق بنانا غضب الہی کو مزید بڑھانا ہے۔

تبلیغی جماعت کے ذمہ داران کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے قاری محمد عثمان نے کہا کہ وباءمیں سرکاری اور اجتماعی طور پر رجوع الی اللہ اور ناداروں کی دلجوئی اور بحالی کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنایاجائے،کثرت استغفار اور دعاؤں سے وباوں اور مصائب سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے،حکومت کی جانب سے تبلیغی جماعت کے اکابرین کے واضح احکامات اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے نظام کو جہاں ہیں وہاں رک جانے اور حکومتی اداروں کی احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کرنے کی واضح ہدایات کے باوجود دعوت و تبلیغ کی عالمگیر تحریک کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا بدترین ظلم اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے،حکومت ایک طرف تبلیغی جماعت کے علما و ذمہ داران کو گرفتار کررہی ہے اور دوسری جانب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ داران کو عوامی اجتماعات کی کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے ،بہترین حکمت عملی تو یہ تھی جہاں سے یہ کرونا وائرس ملک میں داخل ہورہا تھا اس پورے علاقے کوسیل کردیا جاتا اور وہیں تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے تمام ضروریات سے لیس ہسپتال قائم کردیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد مکمل طور پر یقینی بنائے،ہرطرح کا تعاون کیا جائیگا،پنجاب سمیت حیدرآباد اور کراچی کے تبلیغی مراکز پر چھاپے، گرفتاریاں افسوسناک ہیں،دنیا کے سب سے بے ضرر طبقے کو تختہ مشق بنانا غضب الہی کو مزید بڑھانا ہے،تبلیغی مراکز میں بسیں بھر بھر کر لوگ داخل کروانا حکومت اور اداروں کے کردار کو مشکوک بنانا ہے،حکومت اور انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائے جو کرب کے اس ماحول میں نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران عوام گھروں میں رہ کر وبا کے پھیلاؤ کا راستہ روکیں،معمولی سی بد احتیاطی بھی تاریخی سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ کی جانب سے راشن فراہمی کے اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کسی غریب کو راشن یا امداد نہیں پہنچی جو کہ بہرحال انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ اعلان برائے اعلان کے بجائے راشن کی بلاتفریق فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت غرباءاور سفید پوش طبقے کی خدمت کرکے اخوت و ہمدردی کی نئی مثال قائم کردی ہے۔ جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے راشن پیکجز غریب طبقے تک بلا رنگ و نسل پہنچ رہے ہیں، مخیر حضرات اپنی بساط سے بڑھ کر مزدور پیشہ لوگوں سے تعاون کررہے ہیں، ایسے حالات میں نام نہاد این جی اوز جو پورا سال غریبوں کے نام پر چندے اکھٹی کرتی ہیں انکو گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے