تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ،اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ایک سال تک ذرائع آمدنی کا سوال نہیں ہو گا ،وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے لیے مراعاتی پیکج کا اعلان کردیا

تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ،اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ایک سال تک ذرائع آمدنی کا سوال نہیں ہو گا ،وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے لیے مراعاتی پیکج کا اعلان کردیا


تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ،اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے …

تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ،اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ایک سال تک ذرائع آمدنی کا سوال نہیں ہو گا ،وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے لیے مراعاتی پیکج کا اعلان کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے ترقیاتی منصوبوں کے تحت تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے رہے ہیں اور اس حوالے سے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ بنا رہے ہیں جو ملک بھر میں کنسٹرکشن کو پرموٹ کرے گا ۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے لیے بڑے مراعاتی پیکج کا اعلان کردیا ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو اس سال ذریعہ آمدنی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور نہ ہی ان سے ذریعہ آمدن سے متعلق سوالات کیے جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے میں فکس ٹیکس کر رہے ہیں تاکہ اس شعبے سے منسلک لوگوں کو تنگ نہ کیا جا سکے اور فکس ٹیکس تعمیراتی شعبے سے وابسطہ سرمایہ کاروں کا بڑا مطالبہ بھی تھا ۔اگر سرمایہ کار نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم میں سرمایہ کاری کریں گے تو فکس ٹیکس میں سے 90فیصد ٹیکس معاف کردیں گے ۔ان کاکہنا تھا کہ سٹیل اور سیمینٹ کے علاوہ میٹریل اور سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس معاف کیا جا رہا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی خاندان اپنا گھر بیچنا چاہتا ہے تو اس پر کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کے لیے تیس ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں جو آگے چل کر مزید بڑھا دی جائے گی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر سیلز ٹیکس بھی کم کر رہے ہیں۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے