تمام غیرملکی کھلاڑی جان گئے ہیں کہ وہ اب پاکستان میں۔۔۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے بھارت کی ساری امیدیں خاک میں ملا دیں

تمام غیرملکی کھلاڑی جان گئے ہیں کہ وہ اب پاکستان میں۔۔۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے بھارت کی ساری امیدیں خاک میں ملا دیں


تمام غیرملکی کھلاڑی جان گئے ہیں کہ وہ اب پاکستان میں۔۔۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے …

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی پاکستان سپر لیگ فائیو کے مقابلوں سے بہت لطف اندوز ہوئے، پاکستان میں کرکٹ کی واپسی دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے، تمام غیرملکی کھلاڑی جان گئے ہیں کہ وہ اب پاکستان میں محفوظ ہیں۔

تفصیلات کےمطابق انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے ایک انٹرویو میں اپنے دورِ کرکٹ کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ پاکستان کے خلاف کھیلتے تھے تو اس وقت پاکستان کے پاس عظیم باولرز ہوا کرتے تھے،آخری مرتبہ 2000 میں یہاں میں نے جس خطرناک باؤلنگ اٹیک کا سامنا کیا اس میں وسیم اکرم ،وقاریونس،مشتاق احمداورثقلین مشتاق شامل تھے،اس دور میں 4ایسےعظیم باؤلرز دستیاب تھے جو میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتےتھے،بلا شبہ   پاکستان نےعظیم بلے بازبھی پیدا کئے، اگرحال کی بات کی جائےتو پاکستانی ٹیم کےپاس باؤلنگ کی مکمل ورائٹی موجود ہے،خاص طور پر وکٹ حاصل کرنے والے باؤلرز ،اس کے علاوہ تیز رفتارباؤلرز اور بہترین سپنرز بھی دستیاب ہیں۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے بتایا کہ 2015 میں وہ  عمران خان پر بننے والی ایک ڈاکیومنٹری کے سلسلہ میں پاکستان آئے اور عمران خان  سے ایک طویل نشست ہوئی تھی، وزیر اعظم بننے کے حوالے سے اُن کی امیدوں اور خواہشات پر بات ہوئی،عمران خان نے آخری الفاظ کہے تھے ’ایک دن میں جیت جاوں گا‘ اوروہ واقعی جیت گئے۔انہوں نے قومی کرکٹر بابراعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھے کھلاڑی اور باصلاحیت کھلاڑی ہیں۔سابق انگلش کپتان نے یہ بھی کہا کہ 2009 کے حملے کے باعث پاکستان میں 7 یا 8 سال بین الاقوامی کرکٹ نہیں ہوئی، ہر نقطہ نظر سے پاکستانیوں کے لیے متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کھیلنا آسان نہیں تھا،پاکستانی کھلاڑی مسلسل گھروں سے دور رہتے اور خالی میدانوں میں کرکٹ کھیلتے تھے۔

یاد رہے کہ مائیکل ایتھرٹن کا شمار انگلینڈ کے انتہائی معروف کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ 1989 سے 2001پر مشتمل اپنے کیرئیر میں انہوں نے 115 ٹیسٹ اور 54 ایک روزہ میچز کھیلے۔ وہ اب سکائےسپورٹس کے ساتھ براڈ کاسٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے