” جو لوگ کل تک پانی بھی نہیں پوچھتے تھے، آج گھر بلا کر

" جو لوگ کل تک پانی بھی نہیں پوچھتے تھے، آج گھر بلا کر


” جو لوگ کل تک پانی بھی نہیں پوچھتے تھے، آج گھر بلا کر عطیات دے رہے ہیں”

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) فلاحی تنظیم جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفر عباس کا کہنا ہے کہ پہلے جو لوگ پانی کا گلاس بھی نہیں پوچھتے تھے آج ہمیں فون کرکے گھر بلا کر عطیات دے رہے ہیں۔

سید ظفر عباس نے جے ڈی سی کے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اس وبا کے دوران انہوں نے اور ان کی ٹیم نے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائی ہوئی ہیں لیکن لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچا رہے ہیں۔ انہیں ابھی تک کسی سے  مانگنا ہی نہیں پڑا ، لوگ خود عطیات دے رہے ہیں، مڈل کلاس اور غریب لوگوں نے جو سپورٹ دی ہے اس پر انہیں سلام ہے، لوگ فون کرکے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم ایک کلو دال کا عطیہ لے لیں گے۔

جے ڈی سی سربراہ نے بتایا کہ گزشتہ برس رمضان المبارک میں وہ ایک جگہ لوگوں کی سحری کیلئے چندہ لینے گئے۔ ” میں نے بتایا کہ 40 ہزار لوگوں کو سحری کرا رہے ہیں، انہوں نے میری پوری بات سنی اور کہا کہ کیا ضرورت ہے اتنے لوگوں کو سحری کرانے کی، اب یہ صورتحال ہے کہ ان لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ بیٹا تم سے بڑا کام کوئی نہیں کر رہا، ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔”

سید ظفر عباس نے کہا کہ ہم لوگوں کے دروازوں پر راشن بانٹ رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے،  یہ کچھ کر بھی نہیں رہے اور جو کر رہا ہے انہیں کرنے بھی نہیں دے رہے۔ پہلے کہتے تھے کہ گورنر ہاؤس کے دروازے کھول دیں گے ،  ہمارے پاس راشن پیک کرنے کیلئے جگہ کم پڑ گئی ہے لیکن ہمارے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے نہیں کھولے گئے ۔

جے ڈی سی سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک انتظار کر رہے ہیں کہ کب امیر لوگ فون کریں گے اور کہیں گے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اربوں ، کھربوں کی جائیدادوں والوں نے اسی شہر سے اتنا پیسہ کمایا ہے ، اگر کراچی کی سیاسی جماعتوں کے لوگ ایک ایک کروڑ روپیہ بھی دے دیں تو  ڈیڑھ ارب روپے جمع ہوجائیں گے جس سے اتنا راشن اکٹھا ہوگا کہ رکھنے کیلئے جگہ کم پڑ جائے گی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے