جہانگیر ترین نے 2 شوگر ملز خرید لیں، بہت سے سوالات پیدا ہوگئے

جہانگیر ترین نے 2 شوگر ملز خرید لیں، بہت سے سوالات پیدا ہوگئے


جہانگیر ترین نے 2 شوگر ملز خرید لیں، بہت سے سوالات پیدا ہوگئے

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد 18 جنوری 2019 کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے اے کے ٹی شوگر ملز کی ایک درخواست منظور کی۔ اس درخواست میں گلف شوگر ملز کے تمام شیئرز جہانگیر ترین کی طرف سے خریدنے کا کہا گیا تھا۔

انگریزی روزنامے دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گلف شوگر ملز کے مالکان نے اپنی یہ مل ساڑھے 11 ارب روپے میں جہانگیر ترین کو فروخت کی۔ شوگر ملز کی خریداری کیلئے کوئی منی ٹریل فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی حکومتی ادارے نے اس کی تحقیقات کی ضرورت محسوس کی۔

اسی طرح نوید شیخ نے اپنی امپیریل شوگر ملز بھی جہانگیر ترین کو فروخت کی، 4 جنوری 2019 کو امپیریل شوگر ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مل کی زمین، عمارت، پلانٹ، مشینری سمیت تمام اشیا فروخت کرنے کی منظوری دی۔ یہ مل ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے علاقے کرمانوالہ میں ہے۔ جہانگیر ترین نے یہ شوگر ملز ساڑھے 7 ارب روپے کے عوض خریدی۔

انڈسٹری کے اندر کا بھید رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں شوگر ملز خسارے میں چل رہی تھیں اس لیے انہوں نے بخوشی انہیں فروخت کردیا، کیونکہ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان ملز کو منافع بخش کیسے بنانا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے چینی کے بحران پر اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں جہانگیر ترین کے کردار پر انگلیاں اٹھائی  گئی ہیں۔ ایک تحقیقاتی کمیشن مختلف شوگر ملز کا آڈٹ کر رہا ہے جس کی رپورٹ 25 اپریل کو سامنے آئے گی۔ انکوائری کمیشن کی پہلی رپورٹ میں جہانگیر ترین کی مذکورہ بالا شوگر ملز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

مزید :

قومیبزنس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے