حاملہ خواتین اور بزرگ ملازمین کو بھی 15 دن کی چھٹیاں دینے کی ہدایت، حکومت نے حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے

حاملہ خواتین اور بزرگ ملازمین کو بھی 15 دن کی چھٹیاں دینے کی ہدایت، حکومت نے حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے


حاملہ خواتین اور بزرگ ملازمین کو بھی 15 دن کی چھٹیاں دینے کی ہدایت، حکومت نے …

پشاور  (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے 15 کیسز تصدیق ہونے کے بعد سے صوبائی حکومت نے حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے۔

حفاظتی انتظامات کے تحت محکمہ ریلیف خیبرپختونخوا نے کورونا وائرس سے متعلق سیکریٹریزکو مراسلہ ارسال کیا ہے،مراسلے میں تمام انتظامی سیکریٹریز کو ملازمین کی فہرست سمیت ڈائریکٹوریٹ اور محکموں میں غیرضروری عملہ کی فہرستیں بھی چیف سیکریٹری کو فوری بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین کو 15 روز کی چھٹی دینے کی ہدایت کی گئی ہے اور تمام سرکاری ملازمین کو نجی تقاریب میں شمولیت سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری محکموں میں حاملہ خواتین کو بھی 15 دن کی چھٹیاں دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس کے علاوہ ممبران اسمبلی کو اپنے حلقوں میں عوام سے ملنے سے گریز کی تلقین کی گئی ہے۔چیف سیکریٹری محکموں اور ڈائریکٹوریٹس کو بند کرنے کی حتمی منظوری دیں گے تاہم متعلقہ سیکریٹری اہم افراد کو کسی بھی وقت ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا کہہ سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا حکومت نے کورونا مریضوں کے اہل خانہ کے لیے مفت راشن کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے۔محکمہ ریلیف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا کے مریضوں کے خاندانوں کو مفت راشن دینے کی ہدایت جاری کردی ہے، مفت راشن ان مریضوں کے لیے ہے جن کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں سرکاری قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق راشن پیکیج 20 کلو آٹا، 10 کلو چاول، 10 کلو چینی، 5کلو دال اور دودھ وغیرہ پر مشتمل ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ محکمہ صحت محکمہ داخلہ کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں کے ایڈریس اور دیگر تفصیلات اکٹھی کرے گا، متعلقہ ڈپٹی کمشنر حکومت کا یہ پیکیج متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے گا جب کہ محکمہ داخلہ کے پاس ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔ادھر محکمہ اوقاف خیبرپختونخوا نے کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر کے لیے نماز جمعہ کو 2 شفٹوں میں ادا کرنے کا کہا ہے۔

محکمہ اوقاف کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ مساجد کے ہالوں کی بجائے صحن میں نماز ادا کی جائے، نماز کے دوران صفوں میں اضافی جگہ رکھی جائے، ساتھ ہی بزرگ اور بچے مسجد میں آنے سے گریز کریں۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ہے نمازی سنت اور نوافل گھر میں ادا کریں جب کہ نماز جنازہ کے دوران بھی صفوں میں فاصلہ لازمی رکھا جائے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے