خطرناک سائیڈ ایفیکٹس دیکھ کر سویڈن میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کو ملیریا کی دوا دینا بند کردی

خطرناک سائیڈ ایفیکٹس دیکھ کر سویڈن میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کو ملیریا کی دوا دینا بند کردی


خطرناک سائیڈ ایفیکٹس دیکھ کر سویڈن میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کو …

سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک) ملیریا کی دوا کلوروکوئین کے متعلق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خوشخبری سنائی تھی کہ یہ کورونا وائرس کے لیے بھی بہت مو¿ثر ثابت ہو رہی ہے جس کے بعد کئی ممالک نے اس کا استعمال شروع کر دیا لیکن اب اس کے خطرناک مضر اثرات دیکھتے ہوئے سویڈن کے ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال بند کر دیا ہے۔ نیوز ویک کے مطابق سویڈن کے اخبار ایکسپریسین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ویسترا گوتالینڈ ریجن کے ہسپتال اب کورونا وائرس کے مریضوں کو یہ دوا استعمال نہیں کروا رہے کیونکہ اس سے کورونا کے مریضوں میں پٹھوں کے کھچاﺅ اور نظر کی کمزوری سمیت کئی مضر اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سٹاک ہوم کے ایک ہسپتال میں 40سالہ کیرل سنڈن ہیگ نامی ایک مریض کو دن میں دو گولیاں کلوروکوئین دی جاتی رہیں، جس سے اس کی صحت بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑگئی۔ اس کے پٹھوں میں انتہائی کھنچاﺅ آ گیا اور بینائی بھی کمزور ہونی شروع ہو گئی۔ سلگرینسکا یونیورسٹی ہاسپٹل کے چیف فزیشن پروفیسر ڈاکٹر میگنس گیسلین کا کہنا تھا کہ ”پہلے ہم بھی باقی ممالک کی طرح اس دوا کا استعمال کر رہے تھے لیکن اب ہم نے اس کا استعمال روک دیا ہے، کیونکہ اس کے مریضوں پر کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک سائیڈ ایفیکٹس سامنے آ رہے تھے۔ حتیٰ کہ کئی رپورٹس ایسی آئی ہیں جن میں کورونا وائرس کے مریضوں کے دل اس دوا سے متاثر ہوئے ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے