خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے نبٹنے کے لئے صوبائی حکومت کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے؟بڑی خبر آ گئی

خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے نبٹنے کے لئے صوبائی حکومت کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے؟بڑی خبر آ گئی


خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے نبٹنے کے لئے صوبائی حکومت کیا اقدامات کرنے …

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو کورونا وائرس سے لاحق خطرات کا ادراک ہے اور اس بارے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

کورونا وائرس بارے بلائے گئےکابینہ کےخصوصی اجلاس کی تفصیلات بتاتےہوئےصوبائی مشیر اطلاعات اورصوبائی وزیرصحت نےمیڈیا کو بتایا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بشمول سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، ٹیوشنز سنٹرز15دن کیلئے بند کر دئیے ہیں اور ہاسٹلز فوری خالی کرائے جائیں گے،تمام امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں جبکہ قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کیلئے تمام جیل سیل کر دیئے جائیں گے۔صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ پچاس یا اس سے زائدکے عوامی اجتماعات ختم کر دیئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں  وزیراعلیٰ محمود خان نے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے حلقے میں پہلے سے طے شدہ سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹوارازم پر موجودہ حکومت کا فوکس ہے تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں ڈیرہ جات فیسٹول جس کیلئے تمام تیاری کی گئی تھی بھی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ شادی ہالوں میں شادی کی تقریبات پر پابندی زیر غور ہے جس کیلئے عوام سے اپیل کی گئی ہےکہ وہ شادی ہالوں یا گھروں میں شادی تقریبات میں کم سے کم شرکت کریں،مذہبی اجتماعات کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، مذہبی کابرین کو صورتحال کی نزاکت سے آگاہ کرے گی اور ان کا تعاون حاصل کرے گی۔مشیراطلاعات اجمل خان وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ کرونا کے سلسلے میں جو سخت فیصلے ہوئے ہیں اس میں طاقت کے استعمال کی بجائےمنتخب نمائندےضلعی انتظامیہ کی مددسےجرگوں کےذریعےعوام کا تعاون حاصل کریں گے اور سیاسی جماعتوں، اپوزیشن،علماء،سب کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا نے بتایا کہ ان تمام اقدامات کا مقصداس وباء کوکنڑول کرنا ہے،پوری دنیا میں پاکستان 120ممالک میں نسبتاًمحفوظ ملک ہے جبکہ پاکستان میں ہماراصوبہ اللہ کےفضل سےمحفوظ ہے،صوبےکےعوام کویقین دلاتےہوئےوزیرصحت نےبتایاکہ ابتک پریشانی کی کوئی بات نہیں،وزیراعلیٰ محمود خان پہلے ہی سے کرونا وائرس کے جملہ امور کی نگرانی کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دے چکے ہیں،وزیراعلٰی خود چئیرمین ہیں اورتمام ترحالات و اقدامات کی خود نگرانی کررہےہیں۔مشیر اطلاعات نے بتایا کہ طورخم، غلام خان، انگور اڈہ اور خرلاچء سرحدوں پر سکریننگ اور متصل ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت کی ہر آنے والے پر نظر ہے۔ کورونا وائرس سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر مشیر اطلاعات نےنشریاتی اداروں سےخصوصی گزارش کرتےہوئےکہاکہ وزیر اعلیٰ نے عوام کی آگاہی  کیلئے ابلا غ کے تمام ذرائع پر وسیع پیمانے پر آگہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اورمحکمہ اطلاعات آگہی کےسلسلے میں کلیدی کردار اداکرےگا جبکہ اس مد میں میڈیا بھی اپنی ذمہ داری نبھائے۔

غیریقینی صورتحال سے بچنے کیلئے اجمل وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعلیٰ، مشیر اطلاعاات، وزیر صحت اور محکمہ صحت کا ٹیکنیکل ممبر ہی کورونا اور اس سے متعلقہ ایشوز پربات کرسکیں گے تاکہ غیر ضروری بے چینی اور غلط خبروں کا تدارک اور عوام کو صحیح اور بر وقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نےکہاکہ انکی ٹیم روزانہ کی بنیاد پرصورتحال کومانیٹرنگ کررہی ہےاور اب تک کی اطلاعات کیمطابق صورتحال قابو میں ہےاورعوام کو ہسپتالوں میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس وباء کا سب سے موثر حل میل جول کم سے کم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صرف ان افراد کو ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جن  میں انتہائی درجے کی علامات ظاہر ہوں جس کیلئے صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز مختص کئے گئے ہیں،اس مد میں ہیلپ لائن بھی قائم کردیا گیا ہے اور عوام 1700 ملاکر ضروری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔وزیرصحت و خزانہ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ صحت کو فوری طور پر500ملین روپےسپلیمنٹری گرانٹ کےطورپر2بلین روپے اور دور رس اقدامات کیلئے8بلین روپے کی فراہمی کی اصولی طور پر منظوری دیدی گئی ہے،محکمہ صحت کو آلات اور ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے کے پی پی آر اے سے استثنٰیٰ کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ کرونا سے متعلق تمام امور کو منظم اور مربوط طریقے سے چلانے بارے محکمہ صحت کو ایک اضافی سپیشل سیکرٹری کی خدمات فراہم کر دی گئی ہیں.

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے