دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے ’بھوتوں‘ کا استعمال

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے ’بھوتوں‘ کا استعمال


دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے ’بھوتوں‘ کا …

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیاءمیں لاک ڈاﺅن کے دوران لوگوں کو گھروں میں رکھنے کے لیے حکام نے ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس میں وہ ’بھوتوں‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔میل آن لائن کے مطابق انڈونیشیاءکے جزیرے جاوا پر یہ طریقہ برتا جا رہا ہے جہاں انسانوں کے جسموں پر سفید پٹیاں باندھ کر انہیں مصر سے دریافت ہونے والی ممیوں جیسا بنا کر چوراہوں اور دیگر عوامی مقامات پر بٹھا دیا جاتا ہے۔

یہ جیتے جاگتے انسانی بھوت ساکت بیٹھے رہتے ہیں اور جوبھی انہیں دیکھتا ہے وہ ایسا خوفزدہ ہوتا ہے کہ دوبارہ اسے گھر سے نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ابتدائی طور پر یہ طریقہ جاوا کے گاﺅں ’کیپوہ‘ (Kepuh)کی انتظامیہ نے استعمال کیا اور وہ ایسا مو¿ثر ثابت ہوا کہ اب ان کی دیکھا دیکھی آس پڑوس کے قصبات میں بھی اس طریقے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیاءمیں اب تک کورونا وائرس کے 4ہزار 557مریض سامنے آ چکے ہیں اور 399اموات ہو چکی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے