رشتہ داروں سے ملنے کے بعد واپسی پر شہری بخار میں مبتلا، گاﺅں میں داخلہ بند لیکن پھر کہاں اپنے آپ کو آئسولیٹ کرلیا؟ تصویر بھی سامنے آگئیں

رشتہ داروں سے ملنے کے بعد واپسی پر شہری بخار میں مبتلا، گاﺅں میں داخلہ بند لیکن پھر کہاں اپنے آپ کو آئسولیٹ کرلیا؟ تصویر بھی سامنے آگئیں


رشتہ داروں سے ملنے کے بعد واپسی پر شہری بخار میں مبتلا، گاﺅں میں داخلہ بند …

نئی دہلی (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث 54 ہزار ئے زائد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، وہیں پر حکومت کی طرف سے احتیاطی تدابیر بھی عوام کو بتائی جا رہی ہیں، ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے کئی ممالک میں لوگ اپنی جان بچا چکے ہیں، تاہم ہمسایہ ملک بھارت میں حالات ابتر ہیں، بھارت کے ایک گائوں میں کوروناوائرس کے خطرے کے پیش نظر لوگوں نے دیہاتی کو بے دخل کر دیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی شہر نبادویپ کے دیہاتی علاقے میں رہنے والا شخص اپنے رشتے داروں سے ملنے دوسرے گائوں گیا جہاں سے واپسی پر اسے بخار ہو گیا۔ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ 14 دن تک سیلف آئسولیشن اختیار کرے، تاہم گائوں میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر اس نے کشتی کو ہی قرنطینہ میں تبدیل کردیا ہے جہاں اس نے تمام لوگوں سے اپنا رابطہ منقطع کیا ہوا ہے۔خیال رہے کہ مذکورہ دیہاتی کا نام اور کوروناوائرس ٹیسٹ سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔اس سے قبل بھارت میں قرنطینہ کا انوکھا واقعہ بھی سامنے آیا تھا جب لوگ مہلک وباءکی وجہ سے مجبوراً درختوں میں قرنطینہ کے دن گزار رہے تھے اور اس کی افسوسناک وجہ یہ ہے کہ ان کے گھروں میں اتنی جگہ ہی نہیں کہ وہ وہاں الگ تھلگ رہ سکیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے دی مرر کے مطابق درختوں پر قرنطینہ کی یہ خبر مغربی بنگال کے ضلع پورولیا سے آئی ہے جس کے ایک گاﺅں کے 7 لوگ چنئی سے واپس پہنچے۔ انہیں کہا گیا کہ 14 دن کے لیے خود کو گاﺅں والوں سے الگ رکھیں لیکن کہاں الگ رہتے کہ ان کے گھروں میں اتنی جگہ ہی نہیں تھی۔خبر رساں ادارے کے مطابق ان لوگوں نے اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ گاﺅں سے کچھ دور درختوں کے اوپر انہوں نے ٹہنیوں کے ساتھ چارپائیاں باندھ لیں اور اب وہاں رہائش پذیر ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق گاﺅں والے ان کے لیے کھانا درختوں کے نیچے لیجا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ لوگ اتر کر کھانا کھاتے اور واپس درخت پر چڑھ جاتے ہیں۔واضح رہے کہ مودی سرکارنے پورے ملک میں لاک ڈاﺅن کر رکھا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاﺅن بھی ہے کہ اس میں سوا ارب کی آبادی گھروں میں بند کی گئی ہے۔ اب تک بھارت میں کورونا وائرس کے دو ہزار سے زائد کیس سامنے آ چکے ہیں اور 50 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے