زائد المیعاد شناختی کارڈ کے حامل افراد احساس پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اعلان ہو گیا

زائد المیعاد شناختی کارڈ کے حامل افراد احساس پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اعلان ہو گیا


زائد المیعاد شناختی کارڈ کے حامل افراد احساس پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں؟ …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاﺅن کی وجہ سے متاثر ہونے والے غریب افراد کیلئے حکومت پاکستان نے احساس پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت رقوم کی تقسیم کل سے شروع کر دی جائے گی جبکہ زائد المیعاد شناختی کارڈ کے حامل افراد بھی اس میں اپلائی کر سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا کو بریفنگ میں ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت حق داروں کی نشاندہی کیلئے ایس ایم ایس سے شروعات ہوتی ہے جس کے ذریعے صرف شناختی کارڈ نمبر بھیجنا ہوتا ہے اور وہ ہمارے سسٹم میں چلا جاتا ہے جو بعد ازاں 15 مختلف مرحلوں سے گزرتا ہے اور ہر مرحلے پر ایک ایس ایم ایس جنریٹ ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو اسے پروگرام کیلئے اہل نہ ہونے کا پیغام بھیج دیا جاتا ہے، اس پروگرام کے تحت ایک خاندان کا ایک فرد ہی اپلائی کر سکتا ہے اور اگر ایک شخص نے اپلائی کر رکھا ہے تو ان کی شریک حیات یا بچے بھی اپلائی کریں گے تو انہیں اس حوالے سے ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کسی گھر میں موت ہوئی ہے اور انہوں نے نادرا میں اپنے کوائف اپ ڈیٹ نہیں کروائے تو ہو سکتا ہے کہ وفات پانے والے شخص کے بچے کو نوٹیفکیشن بھیج دیا جائے کہ آپ کے والد کو رقم نوٹیفکیشن کر دی گئی ہے اور ایسا صرف اس وجہ سے ہو گا کہ انہوں نے نادرا میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا ہو گا، ہم ایس ایم ایس کی فیس بھی معاف کر رہے ہیں اور ہیلپ لائن بھی کھلی ہوئی ہے، اگر کسی کا آئی ڈی کارڈ زائد المیعاد ہے تو اس کی ایپلی کیشن بھی قبول کر لی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت اپلائی کرنے والوں کو تین مختلف قسم کے پیغامات بھیجے جاتے ہیں یعنی انکار،رقم کے نوٹیفکیشن کا انتظار یا پھر ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا ایس ایم ایس ہوتا ہے، ایسے افراد جنہیں تیسری نوعیت کا پیغام موصول ہو گا، ان کیلئے ehsaas.nadra.gov.pk کے نام سے ویب پورٹل بھی کھلوا دیا ہے تاکہ وہ یہاں رجسٹریشن کروا سکیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے