شہریار آفریدی کے بھتیجے کی خودکشی کے ڈرامے کا ڈراپ سین، اصل کہانی سامنے آگئی

شہریار آفریدی کے بھتیجے کی خودکشی کے ڈرامے کا ڈراپ سین، اصل کہانی سامنے آگئی


شہریار آفریدی کے بھتیجے کی خودکشی کے ڈرامے کا ڈراپ سین، اصل کہانی سامنے آگئی

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) ڈبلیو ایس ایس سی کوھاٹ کے ملازم اور وفاقی وزیر مملکت شہریار آفریدی کے بھتیجے جواد آفریدی کی مبینہ خودکشی کا ڈرامہ کوھاٹ پولیس نے فلاپ کر دیا جواد آفریدی کی قاتلہ اس کی بیوی نکلی جسے اپنے والد اور ڈرائیور کی معاونت حاصل تھی پولیس نے تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ۔

پولیس رپورٹ کے مطابق 8 مارچ 2020 کو وفاقی وزیر مملکت کے بھتیجے اور ڈبلیو ایس ایس سی کوھاٹ کے ملازم جواد آفریدی نے مبینہ طور پر اسلحہ سے فائرنگ کر کے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تاہم کوھاٹ پولیس نے میڈیکل رپورٹ اور دیگر حقائق کا پتہ لگا کر خودکشی کے اس ڈرامے کو فلاپ کر دیا اور اصل ملزمان تک رسائی حاصل کر کے انہیں بے نقاب کر دیا جواد آفریدی کو ان کی اہلیہ ماہ نور دختر بابر آفریدی نے پستول سے مار کر قتل کیا اور اس کارروائی میں اسے اپنے والد بابر آفریدی اور ڈرائیور اسرار ولد سلیم گل کی معاونت حاصل تھی وجہ عداوت مقتول کی دوسری شادی پر اصرار تھا جس پر میاں بیوی کے مابین ناچاقی پیدا ہوئی جبکہ سسر کی طرف سے بھی انہیں اس بارے دھمکیاں ملی تھیں ۔

پولیس نے مقتول کے والد سلطان آفریدی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا اور ایک ماہ کے اندر اندر خودکشی کے اس ڈرامے کا بھانڈا کوھاٹ پولیس نے پھوڑ دیا ذرائع کے مطابق واقعہ کے ایک ملزم اسرار ولد سلیم گل کو کے ڈی اے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /کوہاٹ



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے