صرف پانی سے کتنے جراثیم صاف ہوتے ہیں اور صابن سے کتنے؟ ماہرین نے تصاویر جاری کردیں، ہر شخص کے لیے انتہائی ضروری معلومات

صرف پانی سے کتنے جراثیم صاف ہوتے ہیں اور صابن سے کتنے؟ ماہرین نے تصاویر جاری کردیں، ہر شخص کے لیے انتہائی ضروری معلومات


صرف پانی سے کتنے جراثیم صاف ہوتے ہیں اور صابن سے کتنے؟ ماہرین نے تصاویر جاری …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس پھیلنے کے بعد سے ماہرین تسلسل کے ساتھ صابن سے ہاتھ دھونے کی تاکید کرتے آ رہے ہیں، مگر کئی لوگ اس میں غفلت برتتے ہیں اور صرف پانی سے ہاتھ دھو کر مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ اب ماہرین نے صرف پانی سے یا صابن کے ساتھ ہاتھ دھونے کا فرق عملاً دکھا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ’گڈ ہیلتھ‘ نامی تنظیم کے ماہرین نے ایک آدمی کے ہاتھ پر ’گلو جرم‘ (Glo Germ)نامی جیل لگا کر یہ تجربہ کیا اور ویڈیو شیئر کی ہے۔ یہ جیل ہاتھ پر لگانے سے الٹراوائلٹ کیمرے میں ہاتھ روشن ہو جاتا ہے اور اس جیل کے اجزاءکا سائز کورونا وائرس یا دوسرے بیکٹیریا کے برابر ہوتا ہے اور یہ اتنا ہی جلد سے چپکتی ہے جتنا کہ وائرس اور بیکٹیریا۔

ایک شخص کے ہاتھ پر یہ جیل لگا کر پہلے 3سیکنڈ تک صرف پانی سے اس کے ہاتھ دھلوائے گئے جس سے کوئی فرق نہ پڑا۔ پھر بغیر صابن 6سیکنڈ تک ہاتھ دھلوائے گئے اور فرق جوں کا توں رہا۔ پھر اسی طرح 20سیکنڈ تک ہاتھ دھلوائے اور انتہائی معمولی فرق پڑا۔ اس کے بعد یہی عمل صابن کے ساتھ دہرایا گیا اور ہاتھ پہلے سے کم روشن ہوتے چلے گئے۔ صابن کے ساتھ 20سیکنڈ ہاتھ دھونے کے بعد بھی ہاتھوں پر روشن حصے نمایاں تھے۔ پھر جب 30سیکنڈ تک ہاتھ دھلوائے گئے تو ہاتھوں کی رنگت بہت مدھم پڑھ گئی جس کا مطلب تھا کہ وائرس اور بیکٹیریا کافی حد تک صاف ہو چکے ہیں۔ اس ویڈیو میں ماہرین نے کہا کہ صابن کے ساتھ 20سیکنڈ تک ہاتھ دھونا بھی مناسب نہیں ہے۔ ہمیں کم از کم 40سیکنڈ تک صابن سے اچھی طرح رگڑ کر ہاتھ دھونے چاہئیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ صابن کے مالیکیولز کا ایک سرا وائرس یا بیکٹیریا سے جڑ جاتا ہے اور دوسرا پانی سے۔ اس طرح صابن انہیں ہاتھ سے صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صابن وائرس اور بیکٹیریا کو مارتا نہیں بلکہ انہیں ہاتھوں سے اتارنے میں مدد دیتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے