عالمی کرکٹ پر آئی سی سی کی گرفت کمزور پڑنے لگی، ایونٹس کی میزبانی میں اظہار دلچسپی طلب کرنے پر کتنے ممالک نے جواب دیا اور کن ممالک نے ردعمل دینے سے انکار کر دیا؟ تشویشناک انکشاف سامنے آ گیا

عالمی کرکٹ پر آئی سی سی کی گرفت کمزور پڑنے لگی، ایونٹس کی میزبانی میں اظہار دلچسپی طلب کرنے پر کتنے ممالک نے جواب دیا اور کن ممالک نے ردعمل دینے سے انکار کر دیا؟ تشویشناک انکشاف سامنے آ گیا


عالمی کرکٹ پر آئی سی سی کی گرفت کمزور پڑنے لگی، ایونٹس کی میزبانی میں اظہار …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی عالمی کرکٹ پر گرفت کمزور پڑنے لگی ہے کیونکہ باہمی سیریز اور لیگز سے پیسہ کمانے کے چر میں بڑے بورڈز آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی سے کنی کترانے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی چیف مانو سواہنے نے فروری میں فل اور ایسوسی ایٹ ممبر ملکوں کو ای میل کے ذریعے 2023ءسے 2031ءتک کے فیوچر ٹور پروگرام میں ہونے والے انٹرنیشنل ایونٹس کی میزبانی کیلئے اظہار دلچسپی طلب کیا تھا جس کا مقصد کرکٹ کی مارکیٹ بڑی کرتے ہوئے ذرائع آمدنی بڑھانے کے امکانات پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی ای میل میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ میزبان بورڈ کو اپنی حکومتوں کی جانب سے ٹیکس میں استثنیٰ کی ضمانت حاصل کرنا ہوگی لیکن اس معاملے میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان، ملائیشیا، ویسٹ انڈیز اور امریکہ پر مشتمل کنسورشیم کی جانب سے ایونٹس کی میزبانی کیلئے اظہار دلچسپی ظاہرکیا گیا، بھارت نے تو جواب دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جبکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا نے بھی کسی طرح کا ردعمل دینے سے انکار کردیا، نیوزی لینڈ نے یہ شرط رکھی کہ جب تک 8 سال کا کیلنڈر ترتیب نہیں دیا جاتا اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ میزبانی کا امیدوار بننے کیلئے 12 فل اور 92 ایسوسی ایٹ ممبرز میں سے کوئی بھی دلچسپی کا اظہار کرسکتا تھا لیکن اس کے باوجود مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی اور باہمی سیریز اور لیگز سے پیسہ کمانے کے چکر میں بڑے بورڈز خاموش رہے،ایک وجہ فل ممبرز کے آپس کے اختلافات بھی بنے، ٹیکس میں استثنیٰ کا مطالبہ بھی کئی ملکوں کیلئے پورا کرنا آسان نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2016ءکے ٹیکس میں چھوٹ نہ ملنے کی وجہ سے آئی سی سی بھارتی بورڈ سے 2 کروڑ 37 لاکھ ڈالر کی رقم بطور زرتلافی ادا کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن مسلسل ٹال مٹول کے بعد اب ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی میں کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ ہو گا۔

ایک بھارتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ فل اور ایسوسی ایٹ ممبرز کے ہوتے ہوئے آئی سی سی ایونٹس میں عدم دلچسپی کا اظہار کوئی اچھی بات نہیں،ایک اور غلط فیصلہ مینز اور ویمن ایونٹس کے نشریاتی حقوق الگ الگ فروخت کرنے کا کیا جا رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو خواتین کرکٹ کے مقابلوں کیلئے خریدار تلاش کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے