قصوری خاندان اور محمود علی قصوری ٹرسٹ کا کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے 60 ملین دینے کا فیصلہ

قصوری خاندان اور محمود علی قصوری ٹرسٹ کا کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے 60 ملین دینے کا فیصلہ


قصوری خاندان اور محمود علی قصوری ٹرسٹ کا کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے 60 ملین …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قصوری خاندان اور محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ملک کو درپیش کورونا وائرس بحران میں 60 ملین عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں سے 20 ملین ٹرسٹ اور 20 ملین قصوری خاندان نے دیے ہیں جن سے براہ راست مستحق افراد کی مدد کی جائے گی۔20 ملین روپے وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں جمع کرائے جائیں گے۔

قصوری خاندان اور قصوی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے 40 ملین روپے سے غریب خاندانوں میں راشن کی تقسیم کی جائے گی ۔ کراچی، لاہور ، اسلام آباد اور قصور میں 13 اپریل سے مستحق لوگوں میں راشن کی تقسیم شروع کردی جائے گی۔

محمود علی قصوری ٹرسٹ کے چیئرمین خورشید محمود قصوری اور شریک چیئرمین ناصر قصوری کا کہنا ہے کہ 1994 سے یہ ٹرسٹ بغیرکسی تشہیر کے پسماندہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے مختلف منصوبوں پرمحتاط طریقے سے کام کر رہا ہے، مشکل کی اس گھڑی میں دیہاڑی دار طبقے کی مدد کیلئے ” ہر قدم پاکستان کے ساتھ” کے نام سے اپنی مہم کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ راشن کی تقسیم ٹرسٹ براہ راست کرے گا اور ساری سپلائی کو بیکن ہاؤس اور کنکورڈیا کالجز کے مخصوص کیمپسز میں رکھا جائے گا۔ محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ کی سرپرست اور بیکن ہاؤس کی بانی مسز نسرین قصوری کا کہنا ہے کہ بیکن ہاؤس میں سماجی ذمہ داری کے حوالے سے کلچر موجود ہے، ہم مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ محمود علی قصوری ٹرسٹ کی بنیاد 1994 میں رکھی گئی تھی ، یہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس نے ہمیشہ پسماندہ لوگوں کی ترقی اور بہتری کیلئے کام کیا ہے۔ ٹرسٹ اور اس کے بنیادی ڈونرز بیکن ہاؤس، قصوری خاندان اور بیکن ہاؤس امپلائز نے ہمیشہ تمام قومی بحرانوں میں لوگوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔ 2005 کے زلزلے، 2009 میں آئی ڈی پی بحران، 2010 اور 2014 کے سیلابوں میں ٹرسٹ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ حال ہی میں ٹرسٹ نے گوجرانوالہ کے 48 سرکاری پرائمری سکولوں میں باتھ رومز اور کلاس رومز کی تعمیر کیلئے 22 ملین کی امداد کی تھی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے