لاک ڈائون کی وجہ سے پولٹری کی کھپت نہ ہونے کے برابر، فارمز مالک مرغیاں تلف کرنے پر مجبور

لاک ڈائون کی وجہ سے پولٹری کی کھپت نہ ہونے کے برابر، فارمز مالک مرغیاں تلف کرنے پر مجبور


لاک ڈائون کی وجہ سے پولٹری کی کھپت نہ ہونے کے برابر، فارمز مالک مرغیاں تلف …

لاہور (ویب ڈیسک) لاک ڈاو¿ن کے بعد پاکستان کے پولٹری فارمرز خوراک اور فنڈز کی قلت کے باعث سے ہزاروں چوزے لاکھوں مرغیاں تلف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو عنقریب ملک میں چکن ناپید ہوجائے گا۔

سما نیوز کے مطابق پاکستان پولٹری فارمرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالباسط نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں فارمرز ہزاروں چوزوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں اور نہ ہی فارم کا کرایہ ادا کرنے کے قابل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے شادی سمیت دیگر تقریبات منعقد نہیں ہورہی, ریسٹورنٹس بند ہیں۔ چکن کی طلب ختم ہوگئی ہے جس کے باعث فارمرز کو روزانہ چالیس ملین کا خسارہ ہورہا ہے۔

پاکستان میں روزانہ چالیس لاکھ سے زیادہ چوزے پیدا ہوتے ہیں۔ جب سے یہ صورتحال بنی ہے، فارمرز انہیں ویران جگہوں میں دفن کردیتے ہیں یا فارم کے اندر ہی مرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔پولٹری ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولٹری سیکٹر کو بچانے کیلئے فوری طور پر ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ بصورت دیگر عنقریب پاکستان میں کھانے کیلئے چکن دستیاب نہیں ہوگا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے