لاک ڈاؤن سے غریب اور مزدور پیشہ افراد کی مشکلات کا بخوبی احساس،وفاق بلوچستان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گا:وزیر اعظم عمران خان

لاک ڈاؤن سے غریب اور مزدور پیشہ افراد کی مشکلات کا بخوبی احساس،وفاق بلوچستان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گا:وزیر اعظم عمران خان


لاک ڈاؤن سے غریب اور مزدور پیشہ افراد کی مشکلات کا بخوبی احساس،وفاق …

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کووڈ 19نوول کرونا وائرس سے پیشگی بچاﺅ کیلئے کئے گئے لاک ڈاؤن سے غریب اور مزدور پیشہ افراد کے مشکلات کا بخوبی احساس ہے، ملک کے سب سے پسماندہ صوبے کے غریب اور مزدور پیشہ افراد کی داد رسی کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے،کرونا جیسے عالمی وبا کا پوری دنیا کو چیلنج درپیش ہیں جسے نمٹنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن کے تحت کام جاری ہے، بلوچستان حکومت کا کرونا وائرس سے پیشگی بچا کے لیے اقدامات حوصلہ افزا ہیں وفاقی حکومت اس سلسلے میں بلوچستان کی ہر ممکن مدد کریگی،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبے میں اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کی روانی ، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی اور غربت میں کمی کے حوالے سے ایک موثر اور مربوط حکمت عملی مرتب کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ میں گورنر بلوچستان جسٹس(ر)امان اللہ یاسین زئی ،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری ،وفاقی وزرا زبیدہ جلال ،اسد عمر ،صوبائی وزرا سردار یارمحمدرند، اسد بلوچ، نورمحمددمڑ،سلیم کھوسہ ،مبین خلجی سمیت دیگر بھی موجودتھے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کو کووڈ کرونا وائرس19 جیسی وبا کا سامنا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت تک پاکستان پر زیادہ پریشر نہیں تاہم چین اور دنیا کے دیگر ممالک کی صورتحال دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اسی مہینے کے آخر تک پاکستان پر بھی کووڈ کرونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد میں اضافہ کا بوجھ بڑھے گا۔اسی لئے ہم نے قومی سطح پر اس وبا کے متعلق نیشنل کمانڈ سسٹم بنا دیا ہے جس کے ساتھ وفاق اور تمام صوبے منسلک ہیں بلکہ وہاں یومیہ بنیادوں پر اس مرض   سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد،مرنے والوں کی تعداد،کتنے مریضوں کی حالت تشویش ناک اور کتنے صحتیاب ہوئے ہیں؟ سب تفصیلات ملکی اور بین القوامی سطح پر پہنچائی جا رہی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم چین،اٹلی،امریکہ اور دیگر ممالک کی صورتحال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس سلسلے میں قبل ازوقت بہتر انتظامات کئے جا سکیں ، کوڈ کرونا وائرس کے خلاف صف اول میں بھر سر پیکار ڈاکٹرز اور دیگر عملے کو پرسنل پروٹیکیٹیو آلات (پی پی آئیز)کی فراہمی کا عمل جاری ہیں بلکہ یہاں بلوچستان میں حفاظتی کٹس و دیگر حالات کی فراہمی کر دی گئی ہے،اللہ کا بڑا کرم ہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے کسی ایک کی بھی حالت تشویشناک نہیں ،مجھے امید ہے بلوچستان میں بعد میں بھی حالات زیادہ گھمبیر نہیں ہوں گے کیونکہ یہاں آبادیوں کا ایک دوسرے سے فاصلے زیادہ ہیں، اگر کسی جگہ لوگ متاثر بھی ہوں تو اس وبا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کوئٹہ اور بلوچستان کے مقابلے میں لاہور،کراچی،پشاور،فیصل آباد ودیگر شہروں میں جہاں کی آبادی زیادہ ہے میں اپریل کی آخر تک کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں زیادہ اضافے کے خدشات موجود ہیں،اس لئے ہمیں پہلے ہی تیاری کرنا پڑے گی،بلوچستان حکومت نے پہلے بھی کرونا وائرس کے تدارک کے لئے حوصلہ افزا اقدامات کئے ہیں ہم اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو مطلوب تمام وسائل فراہم کریں گے ۔

عمران خان  کا کہنا تھا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے ،یہاں لاک ڈاؤن سے دیہاڑی پر کام کرنے والے،مزدور پیشہ اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے متاثر ہونے کے خدشات زیادہ ہیں، اسی لئے آج میں نے گورنراور وزیراعلی سمیت کابینہ کے دیگر اراکین کے ساتھ اس سلسلے میں تفصیلی بات چیت کی ہے کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ جاری لاک ڈاؤن سے بلوچستان میں غریب طبقہ کا بڑا نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کی مشکلات کا ادراک اور احساس ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کو تمام صوبوں سے مختلف شعبوں میں لاک ڈان میں نرمی سے متعلق تجاویز لی جائیں گی اور اس سلسلے میں احکامات دئیے جائیں گے کیونکہ دنیا کے مختلف ایسے ممالک جو اس وبا سے متاثر ہیں اور وہاں غربت اور بے روزگاری بھی زیادہ نہیں ہے،نے لاک ڈاؤ ن میں نرمی اور اسے ختم کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں، نائی ،درزی اور دوسرے چھوٹے کاروباری طبقے کو لاک ڈاؤن میں نرمی دینے سے بیروزگاری اور غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن ہیں اکیلے وفاقی یا صوبائی حکومتیں عالمی وبا اور دوسرے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لئے سب کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے کووڈ کرونا وائرس سے پیشگی بچا کے لئے پہلے بھی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں ہم اس سلسلے میں صوبے کو مطلوب تمام وسائل کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے انہوں نے کہا کہ مجھے بلوچستاں جیسے پسماندہ صوبے میں لاک ڈان سے غریب اور مزدور طبقے کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے اس سلسلے میں احساس کفالت پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ہر ممکن داد رسی کی جائے گی ۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے وزیراعظم عمران خان اور اجلاس کے شرکا کو کووڈ کرونا وائرس کے تدارک اور اس سے متاثرہ افراد کے علاج معالجہ سے متعلق امور اور اقدامات سے متعلق بریفنگ بھی دی ۔اعلی سطح اجلاس میں صوبائی وزرا و دیگر نے بھی شرکت کی ۔

اس سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کوئٹہ میں گورنر جسٹس (ر)امان اللہ یاسین زئی اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال سے ملاقات بھی کی جس کے دوران کرونا وائرس کے تدارک ،اقدامات اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔دریںاثنا وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی وفاقی وزرا اسد عمر، زبیدہ جلال، گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان ، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد   رند، کمانڈر سدرن کمانڈ اور سینئر افسران موجود تھے ۔وزیراعظم کو صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی نگہداشت، زائرین کی سہولت کے لئے کئے گئے انتظامات، اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی، ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی کٹس کی فراہمی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ ۔صوبا حکومت کی جانب سے موجودہ اور مستقبل کے ریلیف پیکیج ، راشن کی صوبے کی مستحق عوام میں تقسیم، پارلیمنٹیریئنز کی جانب سے کورونا فنڈ کا قیام، صحت کے عملہ کے لئے مختلف نوعیت کے استثنی اور مختلف مقامات پر جاری ڈس انفیکشن (جراثیم کش)مہم کے حوالے سے لئے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی ۔

راعظم عمران خان نے صوبے میں اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل فراہمی، اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کی روانی ، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی اور غربت میں کمی کے حوالے سے ایک موثر اور مربوط حکمت عملی مرتب دینے اور اس حکمت عملی کا مسلسل جائزہ لینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین پر مشتمل ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے۔ اس تھنک ٹینک کی ترجیح ان افراد کی کفالت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے اقدامات کی سفارش ہو جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وزیراعظم نے زراعت کے فروغ اور کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے حوالے سے رعایات دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے