لاک ڈاﺅن کی وجہ سے خواتین پر تشدد میں اضافہ، انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے آگیا

لاک ڈاﺅن کی وجہ سے خواتین پر تشدد میں اضافہ، انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے آگیا


لاک ڈاﺅن کی وجہ سے خواتین پر تشدد میں اضافہ، انتہائی افسوسناک انکشاف سامنے …

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لاک ڈاﺅن کی وجہ سے برطانیہ میں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق لاک ڈاﺅن کی وجہ سے میاں بیوی ہمہ وقت ایک ساتھ گھر میں رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں جس کے باعث گھریلو جھگڑوں کی شرح ان ہفتوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ برطانوی اعدادوشمار کے مطابق لاک ڈاﺅن کے ان دنوں میں گھریلو تشدد کے لیے قائم کی گئی ہیلپ لائنز پر خواتین کی کالز میں 25فیصد اضافہ ہوا۔ ہیلپ لائنز پر کالز کرکے گھریلو تشدد کی رپورٹ درج کرانے والی خواتین میں امیر نوکری پیشہ خواتین، گھریلو خواتین، سیاستدانوں کی بیویاں، لیڈی سرجن ڈاکٹرز سمیت ہر شعبہ زندگی کی خواتین شامل تھیں، جن کی عمریں 20سے 70 سال تک تھیں۔

ان خواتین نے ہیلپ لائنز پر فون کرکے اپنے شوہر کے ہاتھوں گھریلو تشدد بننے کی شکایت کی۔ تھراپسٹ بیتھ تھامپسن کا کہنا تھا کہ ”لاک ڈاﺅن کے ان دنوں میں گھریلو تشدد کی شرح میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔“ بیتھ تھامپسن نے پیش گوئی کی کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں کہہ سکتی ہوں کہ ”خواتین کی خودکشیوں میں بھی اضافہ ہو گا کیونکہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکل سکتیں اورانہیں مناسب مدد بھی نہیں پہنچ سکتی۔اگر خواتین اپنے شوہر کا تشدد رپورٹ کرتی ہیں تو اس صورت میں بھی انہیں شوہر کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا چنانچہ انہیں اپنے شوہر کے مزید غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔وہ ان سے اس بات کا بھی بدلہ لیں گے کہ انہوں نے تشدد کی رپورٹ کیوں کی۔“بیتھ تھامپسن نے اس حوالے سے ویسٹ سسیکس کی خاتون کیلی فٹزگبنس کی مثال دی جس کی لاش گزشتہ دنوں اس کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی۔ اسے قتل کیا گیا تھا یا اس نے خودکشی کی، اس حوالے سے ابھی کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے