لاک ڈاﺅن کے دوران گھر میں دوائیاں ختم ہوجائیں تو یہ آسان ٹوٹکے اپنائیں

لاک ڈاﺅن کے دوران گھر میں دوائیاں ختم ہوجائیں تو یہ آسان ٹوٹکے اپنائیں


لاک ڈاﺅن کے دوران گھر میں دوائیاں ختم ہوجائیں تو یہ آسان ٹوٹکے اپنائیں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے مختلف ممالک میں لاک ڈاﺅن کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ گھروں تک محدود رہیں اور وائرس کاپھیلاﺅ روکا جا سکے۔ پاکستان میں بھی لاک ڈاﺅن ہو چکا ہے۔ اس دوران امکان ہے کہ گھر میں آپ کے پاس ضروری ادویات ختم ہو جائیں اور بازار سے بھی نہ ملیں تو ماہرین نے کچھ ایسے آسان ٹوٹکے بتائے ہیں جو آپ ان ادویات کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ برطانوی ماہر ڈاکٹر لنڈا ویئر نے بتایا ہے کہ سردی، فلو یا دیگر وجوہات کی بناءپر پٹھوں کو لاحق ہونے والے درد کے لیے پیراسیٹا مول بہترین گولی ہے۔ اگر آپ کو بازار سے پیراسیٹا مول نہیں ملتی تو اس کی متبادل دوا حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن اگر وہ بھی نہیں ملتی تو آپ گرم پانی ایک بوتل میں ڈال کر اس سے پٹھوں پر ٹکور کریں۔ اس سے بھی آپ کو تکلیف سے افاقہ ہو جائے گا۔ اگر آپ کو شدید درد ہے اور آپ کے پاس پیراسیٹامول موجود ہے تو اس کی نارمل خوراک کے ساتھ 100ملی گرام تک کیفین بھی لیں۔ اس سے دوا زیادہ موثر ہو جائے گی اورآپ کو فوری آرام ملے گا۔ یہ یاد رکھیں کہ یافی کے ایک مگ میں لگ بھگ 100ملی گرام کیفین ہوتی ہے۔ سردرد اور دانت درد کے لیے بھی یہ طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کھانسی کورونا وائرس کی بھی ایک علامت ہے اور عام فلو اور سردی لگ جانے سے بھی ہو جاتی ہے۔ اگر آپ گھر میں محصور ہیں اور کھانسی کی دوا ختم ہو گئی ہے تو ڈاکٹر لنڈاویئر نے ہدایت کی ہے کہ آپ کھانسی سے آرام پانے کے لیے شہد کا استعمال کر سکتے ہیں۔ 12ماہ سے کم عمر بچوں کو کھانسی کی صورت میں ڈاکٹر سیرپ کی بجائے شہد استعمال کروانے کا ہی مشورہ دیتے ہیں۔ شہد میں ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جو وائرس، بیکٹیریا اور انفلیمیشن کے خلاف کام کرتے ہیں۔ کھانسی کے کئی طرح کے سیرپ میں شہد بھی پایا جاتا ہے۔

کانوں میں جمی میل اکھاڑنے اور کان صاف کرنے کے لیے لوگ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے حامل سپرے استعمال کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر کوکرین یو کے پروفیسر مارٹن برٹن کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ کے پاس یہ سپرے ختم ہو جائے تو آپ اس کی جگہ پانی یا زیتون کا تیل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ بھی میل صاف کرنے میں اتنے ہی مو¿ثر ثابت ہوتے ہیں۔“کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کو وٹامن سی کے سپلیمنٹ استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔ اگر آپ کو وٹامن سی کی گولیاں نہیں ملتیں تو پروفیسر مارٹن برٹن کا کہنا ہے کہ آپ وٹامن ڈی کی گولیاں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے متعلق بھی شواہد موجود ہیں کہ یہ نظام تنفس کی انفیکشن کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کو وائرس اور بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے پروٹینز خارج کرنے پر اکساتا ہے، جس سے انسان ان وائرس اور بیکٹیریا سے محفوظ رہتا ہے۔

اگر آپ کا گلا درد کر رہا ہے اور اس کی دوا میسر نہیں تو آپ 400ملی لیٹر نیم گرم پانی میں 2چمچ نمک ڈال کر اس سے غرارے کریں۔ اس سے بھی افاقہ ہو گا، مگر یاد رکھیں کہ پانی حلق سے نیچے نہ اترنے پائے۔ اس کے علاوہ آپ اگر برف چوسیں تو اس سے بھی گلے کی تکلیف سے افاقہ ہو گا۔ ڈاکٹر فیاض احمد نے دردشقیقہ کی دوا نہ ہونے کی صورت میں گھریلو ٹوٹکا بتایا ہے کہ اگر آپ کے پاس دوا ختم ہو گئی ہے تو آپ اندھیرے کمرے میں چلے جائیں اور گرم دودھ پئیں۔ اس سے آپ کا دردشقیقہ جاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چہرے، ماتھے اور کنپٹیوں پر کنوار گندل (ایلوویرا)جیل لگانے سے بھی دردشقیقہ سے افاقہ ہوتا ہے۔

اگر گھر میں کھانا پکاتے یا کسی اور وجہ سے ہاتھ یا جسم کا کوئی حصہ معمولی جل جاتا ہے اور آپ ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکتے تو فوری طور پر جلے ہوئے حصے کو نل کے نیچے کریں اور اس پر پانی بہائیں۔ پھر ایلوویرا کا پتہ توڑ کر اس سے نکلنے والی جیل زخم پر لگائیں اور زخم کو صاف کپڑے سے لپیٹ دیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے