لاہور میں 39افراد کو کورونا وائرس منتقل کرنے والے ’سپر سپریڈر ‘کی تہلکہ خیز کہانی سامنے آگئی

لاہور میں 39افراد کو کورونا وائرس منتقل کرنے والے ’سپر سپریڈر ‘کی تہلکہ خیز کہانی سامنے آگئی


لاہور میں 39افراد کو کورونا وائرس منتقل کرنے والے ’سپر سپریڈر ‘کی تہلکہ خیز …

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )سمن آباد کی کچی آبادی کا ایک رہائشی ’سپر سپریڈر‘ اپنے علاقے کے 39 لوگوں کو کورونا وائرس منتقل کرنے کا سبب بنا ۔اب تک اس علاقے سے کورونا وائرس کے 39 مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ 150 سے زائد افراد کو شبے کی بنیاد پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ’سپر سپریڈر‘کے بھائی نے بتایا کہ متاثرہ شخص گھر کے پاس ہی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ وہاں سے ہی کورونا وائرس گھر لے کر آیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ قبل سلیم فیکٹری سے مزدوی کر کے گھر واپس آتے ہوئے بارش میں بھیگ گیا، جس کے دو دن بعد اس کا گلا خراب ہوا اور کھانسی ہونے لگی۔اگلے روز انہیں بخار بھی ہو گیا۔ ہم انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال لے گئے اور چیک کروایا تو ڈاکٹر نے دوائی دے کر گھر بھیج دیا۔ کچھ دن دوائیں کھانے کے بعد بھی اس کی حالت بگٹرتی جا رہی تھی۔ ہم اسے لے کر دوبارہ ہسپتال گئے تو ہسپتال والوں نے کہا کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ گھر لے جائیں اور وہی دوائی جاری رکھیں جو وہ پہلے کھا رہا ہے۔ فکر نہ کریں ٹھیک ہو جائے گا۔سلیم کے بھائی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کورونا کی ہیلپ لائن 1033 پر بھی کالز کیں تاہم وہاں سے یہی جواب ملا کہ ہسپتال چلے جائیں۔سلیم ایک ماہ سے کام پر بھی نہیں جا رہا تھا اور ہمارے گھر والے پریشان تھے کہ یہ ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا۔ ہم نے اس دوران کئی سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگائے، لیکن نہ تو سلیم کا کوئی ٹیسٹ کیا گیا۔ شاید ڈاکٹروں کو بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ اسے کیا بیماری ہے۔ کیونکہ جب بھی ہم اسے ہسپتال لے کر جاتے تو وہ دوائیں دے کر واپس بھیج دیتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنگ آ کر وہ اپنے بھائی کو نجی ہسپتال لے کر گئے تو وہاں کے ڈاکٹر نے کہا کہ اسے نمونیہ ہے۔ اس تشخیص کے بعد ڈاکٹر نے انہیں کورونا ٹیسٹ کروانے کا کہا۔سلیم کے بھائی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ڈاکٹر کو بتایا کہ سرکاری ہسپتال والے کہتے ہیں کہ اس میں کورونا کی علامات نہیں ہیں اور نہ ہی یہ باہر کے ملک سے سفر کر کے آیا ہے۔ جس پر ڈاکٹر نے پرائیوٹ ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔ ہم سب بھائیوں نے پیسے جمع کرکے سلیم کا آٹھ ہزار روپے دے کر ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد محکمہ صحت والے آئے اور اسے لے کر چلے گئے اور اس وقت سے سلیم لاہور کے میو ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔سلیم کے بھائی کے دعوو¿ں کے برعکس ایس پی اقبال ٹاون محمد اجمل نے بی بی سی کو بتایا کہ سلیم اپنی بہن سے ملنے سندھ گئے تھے جہاں وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔محمد اجمل کے مطابق لاہور واپس پہنچنے پر سلیم نے کھانسی، زکام اور بخار کی شکایت کی تاہم ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے وہ گھر میں ہی خود سے ادویات کا استعمال کرتے رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیماری کے باوجود بھی وہ مقامی لوگوں سے ملتا جلتا رہے جس کی وجہ سے یہ وائرس ان کے گھر والوں سمیت علاقے کے دیگر افراد میں بھی منتقل ہو گیا۔اس حوالے سے سلیم کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ سیلم گذشتہ کئی مہینوں سے لاہور سے باہر نہیں گئے ہیں۔ان کے بھائی نے بتایا کہ ’سندھ میں ان کی بہن تو کیا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا ہے۔ اس لیے کراچی یا سندھ کے کسی بھی علاقے میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘ انہوں نے مزید کہا جہاں تک ہمیں شک ہے تو سیلم کو یہ وائرس فیکٹری سے لگا ہے یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیمار ہونے کے بعدجب وہ ہسپتال اپنا چیک اپ کروانے گیا تو اس وقت وہ کورونا وائرس کا شکار ہوا۔اس چھوٹے سے گھر میں ان کے والدین سمیت چار بھائی اور ان کے بیوی بچے اکھٹے رہتے ہیں۔سلیم کے بھائی نے بتایا کہ ہمارے گھر کے تمام افراد کے کورونا ٹیسٹ کروائے گئے جس میں سے ان سمیت گھر سے تین مرد، چار بچے، ان کی والدہ اور تین خواتین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم میں سے بیشتر افراد میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

حکومت نے ہمیں لاہور کے ایکپسو سینٹر میں رکھا ہوا تھا۔ آٹھ دن وہاں گزارنے کے بعد آج مجھ سمیت ہمارے ہی محلے کے تقریبا 20 لوگوں کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد گھر بھیجا گیا ہے۔سیلم کے بھائی نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں وہاں تین ٹائم کھانا دیا جاتا تھا۔ تاہم اس کے علاوہ نہ کوئی دوائی دی گئی اور میرے خیال میں اس کا نہ ہی کوئی علاج ہے بس یہی ہے کہ بیمار بندہ سب سے دور رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بیماری سے ہمارا پورا گھر بری طرح متاثر ہو ریا ہے کیونکہ بچوں کی مائیں بھی بیمار ہیں۔

ایس پی اقبال ٹاون محمد اجمل اور محکمہ صحت کے مطابق اب تک کے ریکارڈ اور کھوج لگانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیلم سے ہی علاقے کے 39 دیگر لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔ایس پی محمد اجمل نے مزید بتایا کہ سلیم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اس کے گھر والوں اور دیگر رشتہ داروں کے نمونے لیے گئے جن میں سے بیشتر افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے ساتھ والی گلیوں کے لوگوں کے نمونے اکھٹے کیے تو علاقے کے اور لوگوں میں بھی کورونا وائرس پایا گیا۔ان کا کہنا تھا سلیم کا بھائی جس میں کورونا وائرس موجود تھا وہ بھی لوگوں سے ملتا رہا اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد بھی جاتا رہا جہاں وہ کئی افراد سے ملا۔ انھوں نے تصدیق کی کہ اس علاقے کے امام مسجد بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ابھی تک سمن آباد کے علاقے کی اس کالونی میں موجود تقریبا ستر گھروں سمیت ہم نے علاقے کی چھ گلیوں کو مکمل سیل کر دیا ہے۔ جبکہ ارد گرد کے رہائشیوں اور کورونا کے مشتبہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔

مزید :

علاقائیپنجابلاہورکورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے