’’مجھے جس چیز کا ڈر تھا آج افسوس کے ساتھ وہ ہی ہوگیا‘‘ کورونا وائرس کے وار، وزیراعلیٰ سندھ نے افسوسناک انکشاف کردیا

’’مجھے جس چیز کا ڈر تھا آج افسوس کے ساتھ وہ ہی ہوگیا‘‘ کورونا وائرس کے وار، وزیراعلیٰ سندھ نے افسوسناک انکشاف کردیا


’’مجھے جس چیز کا ڈر تھا آج افسوس کے ساتھ وہ ہی ہوگیا‘‘ کورونا وائرس کے …

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مجھے جس چیز کا ڈر تھا، آج افسوس کیساتھ وہی ہوگیا، ایک ہی خاندان کے سات افراد میں کورونا ظاہر ہوا ہے ، ضلع سینٹرل کراچی کی کچی آبادی میں فیملی کا سربراہ باہر سے وائرس لیکر گھر گیا، پورے خاندان بشمول ایک سال کا بیٹا اور 6 سال کی بیٹی میں تصدیق ہوئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں مراد علی شاہ نے کہا کہ  کچی آبادی میں رہنے والے بہن بھائیوں سے گذارش ہے راشن اور امداد ضرور لیں لیکن راشن اور امداد کے ساتھ کورونا وائرس گھر نہ لے جائیں،راشن یا امداد لیتے وقت ایک دوسرے سے فاصلہ ضرور اختیار کریں، گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے 642 ٹیسٹ کئے ہیں ،مزید 92 کیسز ظاہر ہوئے ہیں ، اس وقت سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد 1128 ہے،سندھ میں 349 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جو متاثرہ افراد کا 31 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ   گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہلاکت ہوئی ہے اس طرح تعداد 21 ہوگئی ہے،  کورونا کے سبب ہلاک ہونے والوں کی شرح 1.8 فیصد ہے،  ایران سے 4 قسطوں میں 1380 لوگ آئے تھے جن کو سکھر میں رکھا گیا تھا،   زائرین میں سے 280 پازیٹو آئے تھے،  ان میں 242 ٹھیک ہوکر اپنے گھروں میں چلے گئے ہیں، اس وقت سکھر میں 38 زائرین زیر علاج ہیں، اس وقت گھروں میں 436 زیرعلاج ہیں،  جب کہ اسپتالوں 59 مریض زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ  ایک خبر پھیلی ہوئی ہے کہ لوگ مجبور ہوکر خودکشیاں کر رہے ہیں جو بلکل بے بنیاد ہے، عوام تکلیف میں ضرور ہے مگر ان کی حکومت ان کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے،جب لاک ڈائون ختم ہوگا تو زندگی نئے اصولوں کے ساتھ شروع ہوگی،  آپ سب کو اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کا بھرپور خیال رکھنا ہوگا۔

یاد رہے کہ  پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا اور مجموعی تعداد4183سے 4317 ہوگئی ۔ ملک میں اب تک 63لوگ کورونا کی وبا سے زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں۔خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار شیئر کیے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 560 افراد کورنا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

یعنی صوبے میں 33 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے کیونکہ گزشتہ روز تیمور خان نے یہ تعداد 527 بتائی تھی۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ صوبے میں وائرس سے اموات کی تعداد 20 ہے جبکہ 122 افراد اس سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔ادھر اسلام آباد میں بھی مزید 19 کیسز سامنے آگئے۔سرکاری اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد کے کیسز کی تعداد 83 سے بڑھ کر 102 تک پہنچ چکی ہے۔ 

ادھر گلگت بلتستان میں بھی مزید نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی۔ویب سائٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 2 نئے کیسز کے بعد متاثرین 213 تک پہنچ گئے۔علاوہ ازیں ملک میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔گزشتہ روز تک میں صحتیاب افراد کی تعداد 467 تھی جس میں مزید 105 افراد کا اضافہ ہوا اور اب 572 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں متاثرین میں سب سے زیادہ افراد پنجاب سے ہیں جہاں اب تک 2166 لوگ وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

اسی طرح سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1036 تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 560 مریض ہیں۔بلوچستان میں اس عالمی وبا سے 212 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں یہ تعداد 213 ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 102 ہے جبکہ آزاد کشمیر ابھی تک اس وائرس سے سب سے کم متاثر ہوا ہے اور وہاں تعداد 28 تک پہنچی ہے۔

 اب تک 

سندھ اور خیبر پختونخوا میں بیس بیس افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ، پنجاب میں اموات کی تعداد 17ہے جبکہ گلگت بلتستان میں تین ، بلوچستان میں دو اور اسلام آباد میں ایک شخص لقمہ اجل بنا ہے۔خیال رہے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر نہ کی گئیں تو پاکستان میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 ہزار تک بڑھ سکتی ہے۔

ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں بھی مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن ہے جسے 14 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں 21 اپریل تک لاک ڈاؤن رہے گا۔پاکستان کی حکومت نے تین اپریل سے ملک میں بین الاقوامی فضائی آپریشن کی جزوی بحالی کا اعلان کیا ہے تاہم اندرونِ ملک پروازیں 11 اپریل تک معطل رہیں گی۔

دوسری جانب اقوام عالم کی بات کریں تودنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 14 لاکھ 84 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس سے 88 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اٹلی اب بھی اموات کی تعداد کے حوالے سے سب سے آگے ہے جہاں 17 ہزار 600 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس ، سپین ، جرمنی، برطانیہ میں بھی ہزاروں افراد اس موذی مرض کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

 اٹلی کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں۔امریکی ریاست نیویارک میں گزشتہ روز تقریباً 800 افراد کی ہلاکت ہوئی جو کہ وہاں کی سب سے بڑی یومیہ تعداد ہے۔ ریاست کے گورنر نے پرچموں کو سرنگوں رکھنے کا حکم دیا ہے۔امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے مزید 1973 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں اس سے اموات کی تعداد 14695 ہو گئی ہے۔امریکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں متاثرین کی کل تعداد 431838 ہے۔

امریکہ کے اہم چیزوں کے قومی ذخیرہ سٹریٹجک نیشنل سٹاک پائل میں سے این 95 ماسک، سرجیکل ماسک، چہرے کی شیلڈز، گاؤن اور دیگر طبی سامان تقریباً ختم ہو گیا ہے۔امریکی محکمہ صحت نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اپنے پاس باقی بچ جانے والے تمام ذاتی تحفظ کے سامان یعنی پی پی ای کی ترسیل میں مصروف ہیں۔انھوں نے ان بیانات کی تصدیق کی کہ ان کے ذخیرے میں موجود 90 فیصد ایسا سامان ریاستی اور شہری حکومتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ باقی دس فیصد کو ذخیرے میں رکھا جائے گا تاکہ وبا کے خلاف ‘وفاقی کوششوں’ میں استعمال کیا جا سکے۔

 اسرائیل میں پاس اوور نامی تہوار کی چھٹی سے پہلے ہی ملک بھر میں کاروبار زندگی بند ہو گیا ہے۔ حکومت نے جمعے تک شہروں کے درمیان سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اب تک 9400 اسرائیلیوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ 71 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔مصر میں 1450 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 94 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے دوران کسی بھی قسم کے مذہبی اجتماعات کی اجازت نہیں دے گی۔ اس رمضان کی آمد میں اب دو ہفتے رہ گئے ہیں۔

ایران نے عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے اس کی پانچ بلین ڈالر کی قرض کی درخواست کو منظور کرے۔ صدر حسن روحانی نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی منظوری میں امتیاز نہیں برتنا چاہیے

امریکہ کا کہنا ہے کہ شاید ایران اسے پابندیوں سے نمٹنے کے لیے استعمال کرے گا۔ایران وہ ملک ہے جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ وہاں اب تک 62589 کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور 3872 اموات ہو چکی ہیں۔سعودی عرب کے وزیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوگوں نے سماجی دوری پر عمل نہ کیا تو آئندہ ہفتوں تک سعودی عرب میں کورونا وائرس کا شکار افراد کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اب تک وہاں 2795 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور 41 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں 20 علاقوں کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ان میں نظام الدین کا علاقہ بھی ہے جہاں ایک مسجد میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا تھا۔نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سیسوڈیا نے کہا کہ اب کسی کو بھی ان علاقوں میں جانے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔انھوں نے کہا کہ حکومت یقینی بنائے گی کہ تمام ‘ضروری اشیا’ لوگوں کے گھروں تک پہنچائی جائیں۔انڈیا اب اپنے 21 روزہ لاک ڈاؤن کے وسط میں ہے اور تمام عوامی مقامات، سکول، کالج، زیادہ تر دفاتر اور ٹرانسپورٹ بند ہیں۔

ممبئی اور چندی گڑھ کے بعد دلی وہ تیسرا شہر ہے جہاں لوگوں کے لیے باہر نکلنے پر ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔اب تک دلی میں کووِڈ-19 سے 669 لوگ متاثر جبکہ نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مجموعی طور پر انڈیا میں 5095 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 166 لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے