مردان میں کورونا سے پاکستان کی پہلی ہلاکت لیکن دراصل یہ کون تھا اور پورا علاقہ کیسے متاثر ہوا؟ ایک عرصے بعد ساری کہانی سامنے آگئی

مردان میں کورونا سے پاکستان کی پہلی ہلاکت لیکن دراصل یہ کون تھا اور پورا علاقہ کیسے متاثر ہوا؟ ایک عرصے بعد ساری کہانی سامنے آگئی


مردان میں کورونا سے پاکستان کی پہلی ہلاکت لیکن دراصل یہ کون تھا اور پورا …

مردان (ویب ڈیسک) مردان میں کورونا وائرس سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیاتھا جو پاکستان میں کورونا سے پہلی ہلاکت تھی، اس کے بعد مردان کی یوسی منگا کو لاک ڈائون کیاگیا لیکن تب تک  کئی دیگر افراد بھی موذی مرض میں مبتلا ہوچکے تھے ، اس علاقے کو اب لاک ڈائون سے جزوی طورپر آزاد کردیا گیا لیکن ایک عرصے بعد سینئر کالم نویس اور معروف شاعر منصور آفاق پھیلاو کی کہانی سامنے لے آئے ۔

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ ” میں ایک مدت سے آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں اور آپ کا مداح ہوں۔ گزشتہ چند کالم آپ نے کورونا وائرس کے حوالے سے لکھے۔ میں اِس خط کے ذریعے اِسی وبائی مرض سے مرنے والے پہلے فرد کی کہانی عوام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ اس کہانی سے ہمیں اپنے بےاحتیاطی پر مبنی رویوں کا ادراک ہوگا‘‘۔

یہ کہانی مردان کے نواحی گائوں منگاہ کے 50سالہ ڈسپنسر سعادت خان کی ہے۔ وہ اپنے دو دوستوں کے ہمراہ عمرہ کر کے نو مارچ کو واپس وطن پہنچا۔ اُس وقت اُس کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔

کورونا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ واپسی پر اُس نے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا جس میں قریبی رشتہ دار اور تمام تعلق دار بلائے۔ لوگ مبارکباد دینے بھی گھر پر آتے جاتے رہے۔ گلے ملتے رہے۔وہ لوگوں کو اپنے ہاتھ سے آبِ زم زم اور کھجوریں پیش کرتا رہا۔ کچھ دوستوں نے اُس کی دعوتیں بھی کیں۔ اسے اپنے کم سن پوتوں سے بڑی محبت تھی۔ دونوں اُس سے چمٹے رہتے تھے۔

اس نے ایک دن اپنے کلینک میں مختلف مریضوں کا بھی معائنہ کیا۔ اسے پندرہ مارچ کو بخار، کھانسی اور زکام کی شکایت ہوئی چونکہ میڈیکل کی فیلڈ سے تعلق تھا، اس لئے ادویات خود ہی لے لیں۔ وہ اسے معمول کا نزلہ، زکام سمجھا مگر بخار کی شدت دیکھ کر اگلے دن مردان کے ہیڈ کوارٹر اسپتال میں چلا گیا۔ڈاکٹر کو شک ہوا، اُس نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لئے طبی نمونے لے کر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کو بھجوا دیے۔ ابھی مردان میں کورونا کے ٹیسٹ شروع نہیں ہوئے تھے۔

ڈاکٹر نے اسے فوری طور پر قرنطینہ وارڈ میں داخل ہونے کا کہا مگر وہ واپس چلا گیا کہ ٹیسٹ کےنتائج دو دن بعد آنے ہیں، اسی دوران طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ 18مارچ کو ٹیسٹ کا نتیجہ بھی مثبت آ گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے اسے گھر سے مردان میڈیکل کمپلیکس کے قرنطینہ وارڈ میں منتقل کر دیا مگر اب دیر ہو چکی تھی۔سانس اکھڑی تو وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا گیا مگر اسی رات اُس کا انتقال ہو گیا۔ یہ پاکستان میں کورونا وائرس سے مرنے والا پہلا مریض تھا۔ اسپتال میں ہی میت کو غسل دے کر ایک تابوت میں بند کر دیا گیا اور اہلِ خانہ کو مجبور کیا گیا کہ تدفین اسی رات کو ہوگی اور جنازے میں زیادہ سے زیاہ بارہ افراد شریک ہوں گے۔

اُن بارہ افراد کو بھی دو ہفتوں کے لئے قرنطینہ وارڈ میں رکھا گیا، ٹیسٹ بھی لئے گئے۔ یونین کونسل منگاہ جس میں 66ہزار لوگ رہتے ہیں، کو مکمل طور پر لاک ڈائون کر دیا گیا۔ ہنگامی بنیادوں پر قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور ان تمام افراد کے طبی نمونے اکٹھے کرنا شروع کر دیے گئے جو اُس سے مل چکے تھے۔ 79افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ جس میں اُس کا بیٹا، بہو، دو پوتے اور 40دیگر رشتہ دار شامل تھے۔اُن میں سے تقریباً نصف افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں مگر علاقہ میں ابھی تک لاک ڈائون ہے۔ یونین کونسل کے تمام دیہات میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے جاری ہے۔ اس وقت تک تقریباً چالیس میں سے انتیس دیہات کو وائرس سے پاک قرار دیا جا چکا ہے۔

اس کہانی کے مختلف کرداروں سے کہاں کیا غلطیاں سرزد ہوئیں، اِن غلطیوں کا خمیازہ کن افراد نے کیسے ادا کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو یہ لاپروائی کے رویے ہمیں چار سو دکھائی دیں گے۔ ہمارے پاس، اپنے اور اپنے پیاروں کی جانب بڑھتی موت کی پیش قدمی روکنے کیلئے واحد قابلِ عمل حل ’’سماجی دوری‘‘ ہے۔

سماجی دوری کی کامیاب مثال ووہان میں کورونا کا خاتمہ ہے۔ ہمیں آپس میں ایک مخصوص فاصلہ رکھنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل دیں گے بلکہ والد، والدہ، بھائی، بہن، بیوی اور بچوں کی جان بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔

اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ ہم اس بڑے چیلنج کا مقابلہ نہ صرف خود کریں بلکہ قرب و جوار میں موجود لوگوں کو بھی قائل کریں۔ دنیا کی کوئی ریاست ایسی نہیں جو اس آفت کا تن تنہا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ہمیں کورونا کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہماری چھوٹی سی غلطی سینکڑوں زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔یاد رکھئے، اگر ہم نے بےاحتیاطی و لاپروائی کی تو شاید ہمارا جنازہ پڑھنے والے بارہ افراد بھی نہ ہوں”۔ 

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /مردان



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے