مصری جوڑے کی منگنی موخر لیکن دوسری مرتبہ منگنی کا موقع آیا تو کرفیو لگ گیا لیکن پھر اس جوڑے نے کیا کردکھایا؟ مسکرائے بغیر آپ بھی نہ رہ پائیں گے

مصری جوڑے کی منگنی موخر لیکن دوسری مرتبہ منگنی کا موقع آیا تو کرفیو لگ گیا لیکن پھر اس جوڑے نے کیا کردکھایا؟ مسکرائے بغیر آپ بھی نہ رہ پائیں گے


مصری جوڑے کی منگنی موخر لیکن دوسری مرتبہ منگنی کا موقع آیا تو کرفیو لگ گیا …

قاہرہ(ویب ڈیسک) چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں سماجی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لوگوں کی شادی بیاہ کی تقریبات، فوتگی اور جنازوں میں شرکت جیسے اہم امور متاثر ہوگئے ہیں۔ شادیاں رک گئی ہیں اور لوگ کرونا کی وجہ سے آن لائن شادیاں اور منگنی کی رسومات پوری کررہے ہیں۔کرونا کے تازہ متاثرین میں ایک مصری جوڑا بھی شامل ہے۔ باسم عبدالحلیم اور آیة ایھاب کی گذشتہ جمعہ کی شام منگنی طے تھی مگر کرونا نے ان کی اس خوشی کے موقعے کو تباہ کردیا۔

کرونا کی وجہ سے مصر میں کرفیو، لاک ڈاﺅن اور تقریبات کے مراکز پرپابندی کے نتیجے میں باسم عبدالحلیم اور آیہ ایھاب کوئی تقریب تو منعقد نہ کرسکے مگرانہوں نے مقررہ تاریخ پرمنگنی کا فیصلہ کیا۔ دونوں نے اصرار کیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر وہ منگنی ضرورکریں گے۔ یوں انہوں نے بھی ورچوئل دنیا کا سہارا لیا۔باسم نے آن لائن مصروفیات کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ میں نے اپنی منگیتر کو گذشتہ منگل کی سہ پہر فون کر کے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے کل بدھ کو ملک میں کرفیو لگایا جائے گا۔باسم نے انکشاف کیا کہ ان کی منگنی ایک سے زیادہ مرتبہ ملتوی کردی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے اس بار دونوں نے منگنی کو دوبارہ ملتوی کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جمعہ کے روز منگنی پر اتفاق کیا تھا۔ شرکاءصرف ہمارے کنبے تک محدود تھے۔ دوستوں اور دیگر رشتہ داروں کو بھی انٹرنیٹ کے ذریعے منگنی کی تقریب دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔باسم نے وضاحت کی کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس منگنی میں شریک ہوا کیوں کہ اس کے والدین فوت ہوچکے ہیں۔وہ قاہرہ کے مشرق میں نصر شہر میں واقع اپنے گھر سے جمعہ کوالجیزہ گورنری میں الرمایہ کے مقام پرآیہ کے گھر آئے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریب شروع ہونے سے پہلے ، "نیٹ ورک” اور تقریب کے مقام پر جراثیم کش اسپرے کیا گیا۔

تقریب میں جوڑے کے اہل خانہ کے سوا اور کوئی نہیں تھا جب کہ ان کے 40 دوستوں نے آن لائن اس تقریب میں شرکت کی۔ ورچوئل تقریب میں سورة الفاتحہ کی تلاوت کی گئی۔ کرفیو رات سات بجے لگنا تھا۔ اس لیے عبدالحلیم اور اس کے بھائی جلدی تقریب ختم کرکے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے