معیشت سنبھل جائے گی ،انسان دوبارہ واپس نہیں آسکتے،ہمیں ایک نئے لاک ڈائون کی طرف جانا ہوگا، مرادعلی شاہ

معیشت سنبھل جائے گی ،انسان دوبارہ واپس نہیں آسکتے،ہمیں ایک نئے لاک ڈائون کی طرف جانا ہوگا، مرادعلی شاہ


معیشت سنبھل جائے گی ،انسان دوبارہ واپس نہیں آسکتے،ہمیں ایک نئے لاک ڈائون کی …

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کا پھیلائو روکنے کیلئے ہمیں ایک نئے لاک ڈاوَن کی طرف جانا ہوگا لیکن وزیراعظم سے درخواست ہیں فیصلہ آپ کریں۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف زندگی بچانی ہے کیوں کہ معیشت سنبھل جائے گی لیکن انسان دوبارہ واپس نہیں آسکتے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لوگوں کی زندگی اتنی ہی عزیز ہے جتنی اپنی، پہلے دن سے سماجی فاصلے رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔ کورونا وائرس ملک ہی نہیں ساری دنیا کا مسئلہ ہے، مشکل حالات میں کوئی اکیلے فیصلہ نہیں کرسکتا۔

مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاوَن کا الزام بے بنیاد ہے، غلطیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن کچھ نہ کرنے کی غلطی نہیں ہونی چاہیے، وائرس سے متعلق کوئی بھی غلطی کرے گا تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سارے لوگوں سے ملکرلاک ڈاﺅن کیااور آہستہ آہستہ سب کچھ بند کیا،انہوں نے کہاکہ پہلے سکول 2 دن اور پھر 2 ہفتے کیلئے بند کئے ۔جس دن تجویز دی اگر اس دن لاک ڈاﺅن کر لیتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے یہ بھی وفاق کو بتادیا تھا کہ لاک ڈائون 100فیصد ایفیکٹو نہیں ہورہا۔ وفاق نے اپنا پروگرام بنالیا لیکن اس میں سماجی فاصلے کا خیال نہیں ہورہا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اس وقت تک 3کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے خرچ کر چکی ہے۔ یہ پیسے ہم نے ایکسپو سینٹر کے ہسپتال پر خرچ کیے، سندھ حکومت نے پاک فوج کو پیسے دیئے انھوں نے خرچہ کیا۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم میڈیکل کا سامان خریدنے کے لیے تیار ہیں لیکن دنیا بھر سے سامان یہاں لائیں کیسے ؟،جو آرڈر کرتے ہیں وہ بعد میں کینسل ہو جاتا ہے، پیسہ ہے مگر چیزیں نہیں مل رہیں،صوبائی حکومت کسی غیر ملکی حکومت سے بات نہیں کرسکتی ،وفاقی حکومت سے سامان ملا مگر اتنا نہیں جتنی ضرورت تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 90فیصد ٹیسٹ مفت میں کیے ہیں۔

مرادعلی شاہ نے کہاکہ 13 مارچ کو اسلام آباداجلاس میں میری رائے کو مناسب نہیں سمجھا گیا،ہم نے کوشش کی کہ لوگوں کو کیش ٹرانسفر کریں ،کیش فراہم کرنے کیلئے وفاق سے ڈیٹا کی ضرورت تھی مگر تاخیر کی گئی ،جو چیزوفاق کر سکتا ہے صوبہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید کہاکہ وائرس اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک اس کی ویکسین نہیں آتی ،فلاحی تنظیمیں مسلسل صبح 4 سے لے کر 8 بجے تک راشن بانٹ رہی ہیں ،ہم نے ابھی تک کورونا ایمرجنسی فنڈ سے ایک روپیہ تک نہیں لیا،کوشش کررہے تھے کورونا وائرس غریب علاقوں اور دیہاتوں میں نہ جائے،اگریہ وائرس دیہات میں پھیل گیا تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟۔کورونا ایمرجنسی فنڈ کے حوالے سے الزام لگائے گئے لیکن سندھ حکومت نے فنڈ میں 3 ارب ڈالے جمع کرائے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 24گھنٹے کے دوران 31نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔370افراد اس وقت مختلف ہسپتالوں میں ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے