میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

mobile logo


میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

میر شکیل الرحمان کو جسمانی ریمانڈ کی مدت تیسری بار ختم ہونے پر احتساب عدالت کے جج جوادالحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر عاصم ممتاز کی جانب سے میرشکیل الرحمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کی استدعا کی گئی، جس پر میر شکیل کے وکیل نے کہا کہ مجھے ابھی ریمانڈ کی درخواست کی کاپی ملی ہے۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی فراہمی پر تیاری کے لیے وقت مانگا جس پر کچھ دیر کے لیے سماعت ملتوی کر دی گئی۔بعدازاں جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کے خلاف نیب نے مختلف محکموں سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، سرکاری محکموں سے ریکارڈ طلب کرنے کے کچھ ایس او پیز ہوتے ہیں، جیسے ہی سرکاری محکموں سے ریکارڈ ملا تو تفتیش مزید آگے بڑھے گی۔عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب نیب کو کس کس جگہ سے ریکارڈ ملنا باقی ہے، جس پر عاصم ممتاز نے بتایا کہ ایل ڈی اے سے کچھ مزید ریکارڈ کی درخواست کی ہے۔

سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایل ڈی اے کے اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف اور ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں سعید موجود تھے، اجلاس میں نواز شریف نے ہمایوں سعید کو حکم دیا تھا کہ میرشکیل الرحمان کی درخواست پرعمل کیا جائے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مزید دو گواہان سے میر شکیل الرحمان کی بالمشافہ ملاقات کروانی ہے لہذا جسمانی ریمانڈ بڑھایا جائے۔

میر شکیل الرحمان کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ بین الاقوامی میڈیا دیکھ رہا ہے کہ نیب کیا کر رہا ہے، نیب پر تنقید کرنا ہمارا حق ہے۔ ایڈوکیٹ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے، اب لاک ڈوان کا بہانا بنا کرنیب حکام عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان نے نیب حکام کے ساتھ تفتیش میں تعاون کیا، میر شکیل الرحمان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کرکے پرانا جھوٹا کیس ڈالا گیا، میر شکیل کو نیب حکام نے جب بھی شامل تفتیش ہونے کا نوٹس دیا وہ پیش ہوئے، کال اپ نوٹس پر لوگ نیب نہیں جاتے مگر میر شکیل الرحمان نیب میں پیش ہوئے۔

وکیل صفائی نے نیب کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکام نے پہلا جسمانی ریمانڈ بھی انہیں گرائونڈ ز پر مانگا تھا، نیب حکام عدالتی وقت کا ضیاع کررہے ہیں۔ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ نیب حکام نے اس وقت کے تمام افسران کی میر شکیل الرحمان سے ملاقات کروا چکے ہیں، میر شکیل الرحمان سے تمام افسران کی ملاقات کے بعد نیب کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کا تمام ریکارڈ پہلے دن سے تفتیشی افسر کے پاس موجود ہے، اس اسٹیج پر نیب کو مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

میر شکیل الرحمان کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ان کے موکل کی سرکاری کیمرہ مین کی مدد سے سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر کے تصویر بنوائی گئی، نیب حکام نے وہ تصویر اپنے من پسند میڈیا ہائوسز کو دی جو کہ میر شکیل الرحمان کے مخالف ہیں۔امجدپرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ احد چیمہ کی گرفتاری کی تصویر جاری کرنے پرعدالت عالیہ کا نیب کے خلاف فیصلہ موجود ہے۔وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کے خلاف کبھی کوئی خبر نہیں چلائی، اگر کچھ ایسا ہوا تو میر شکیل الرحمان سے پہلے میں اپنے آپ کو سر نڈر کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی عزت کرتے ہیں اور کبھی سماعت پر اثر انداز ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے، عدالت کی عزت اور تقدیس کرنا ہمارا فرض ہے اور ہم کرتے ہیں۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید :

علاقائیپنجابلاہور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے