”میں ساری رات سو نہ سکا،اگلے دن مجھے گاڑی میں بٹھا کر۔۔۔“ سعودیہ پلٹ کورونا کے پاکستانی مریض کیساتھ کیا سلوک ہوا؟ ساری آپ بیتی سنادی

”میں ساری رات سو نہ سکا،اگلے دن مجھے گاڑی میں بٹھا کر۔۔۔“ سعودیہ پلٹ کورونا کے پاکستانی مریض کیساتھ کیا سلوک ہوا؟ ساری آپ بیتی سنادی


”میں ساری رات سو نہ سکا،اگلے دن مجھے گاڑی میں بٹھا کر۔۔۔“ سعودیہ پلٹ کورونا …

چارسدہ(ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے چارسدہ کے ایک نوجوان محمد سلمان نے دوران علاج اپنی بپتا سناتے ہوئے کہا ہے کہ جیل کی قید تنہائی سے ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں کیا جانے والا سلوک زیادہ برا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق30 سالہ نوجوان نے کو بتایا کہ وہ سعودی عرب میں کام کرتا تھا، فروری میں اسے سینے اور پیٹ میں درد ہوا تو چیک کرانے پرڈاکٹروں اپینڈکس آپریشن تجویزکیا، میں نے وہاں آپریشن کرانے کے بجائے پاکستان آکر علاج کا فیصلہ کیا۔ یہاں چیک کرایا تو ڈاکٹر نے بتایا پھیپھڑوں میں سوجن ہے، دوائی دینے سے کافی حد تک ٹھیک ہوگیا۔ اسی دوران مارچ میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی باتیں ہونے لگیں،اچانک محکمہ صحت کی طرف سے فون آیا کہ اس کا چیک اپ کرنا ہے، 13 مارچ کو اسپتال بلا کر ایک کمرے میں بند کرکے باہر دوگارڈ کھڑے کردیے گئے۔میری رپورٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجی گئی جو پازیٹو آگئی، اس کے بعد میری اصل آزمائش شروع ہوگئی، میری تصویرٹی وی چینلوں پر دکھائی جانے لگی،سوشل میڈیا پر نئی نئی کہانیاں گھڑی جانے لگیں۔ڈاکٹروں اور طبی عملے نے میرا چیک اپ بند کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس حفاظتی سامان نہیں،باقی دنیا سے میرا رابطہ صرف موبائل پر تھا،ہسپتال میں افواہیں تھیں کہ اگر میں مرگیا تو میری میت گھروالوں کو بھی نہیں دی جائیگی،کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا جاﺅں گا۔گاﺅں میں میرا گھر قرنطینہ قرار دیدیا گیا،میرے خاندان کا حقہ پانی بند ہوگیا۔میرے بھائی اور بیوی کے ٹیسٹ بھی لیے گئے لیکن خوش قسمتی سے وہ نیگیٹو آگئے۔ میں اسپتال میں پڑا ہروقت اپنے اورگھروالوں کے ساتھ ہونیوالے سلوک کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ایسا وقت بھی آیا کہ ہسپتال میں مجھے کھانا دینا بھی بندکردیا گیا۔میں نے ایک چینل کو فون کیا تو طبی عملہ کو ہوش آیا ،پھر کھانا توملنے لگا لیکن دوائی پھر بھی نہ دی گئی۔ مجھے کھانسی تھی نہ سینے میں درد ،نہ ہی بخار لیکن میری ذہنی حالت خراب ہوچکی تھی۔

میڈیکل اسٹاف صرف فون پر میری حالت کے بارے میں پوچھتا تھا، مجھے تسلی دی جاتی تھی کہ میرا مدافعتی نظام بڑا مضبوط ہے لہذا میں بیماری کوشکست دے سکتا ہوں۔17دنوں بعد میری رپورٹ نیگیٹوآئی تو میری جان چھوٹی۔ڈاکٹر نے جب رازداری میں مجھے یہ خبرسنائی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔میں ساری رات سو نہ سکا،اگلے دن مجھے گاڑی میں بٹھا کرگھر چھوڑ دیا گیا۔ اب میں کورونا وائرس کو تو بھول چکا ہوں لیکن قید تنہائی اور اس دوران اڑائی جانے والی افواہیں اورغیرانسانی سلوک مجھے نہیں بھولا۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /چارسدہ



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے