واپڈا حکام کے منگلا ڈیم میں پا نی بھر نے سے مقامی آبادی میں خوف وہراس کی لہر

واپڈا حکام کے منگلا ڈیم میں پا نی بھر نے سے مقامی آبادی میں خوف وہراس کی لہر


واپڈا حکام کے منگلا ڈیم میں پا نی بھر نے سے مقامی آبادی میں خوف وہراس کی لہر

میرپور (مانیٹر نگ ڈیسک ) واپڈا حکام ے ڈپٹی کمشنر میرپور کے احکامات اور میڈیا رپورٹس کو نظر ا نداز کرکے منگلا ڈیم میں پا نی بھر نا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے مقا می آ بادی میں خوف پھیل گیا۔ میرپور آزاد کشمیر میں واپڈا حکام ے خالق آباد کے قریب منگلا ڈیم کی متاثرہ جگہ کی مرمت کئے بغیر پا نی بھر نا شروع کردیا ہے۔ کمشنر منگلا ڈیم امور محمد طیب کے مطابق منگلا ڈیم میں اس وقت پا نی کی سطح 1205 فٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیم میں 1242 فٹ تک پا نی بھر نے کی گنجائش ہے۔ میڈیا کی طرف سے خالق آباد کے مقام پر ڈیم میں ناقص تعمیر کی نشا ندہی پر واپڈا حکام نے متاثرہ جگہ کی تعمیر کے بجائے پا نی بھر نا شروع کر دیا ہے۔ واپڈا کے اس اقدام سے مقامی آبادی میں خوف پھیل گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر میرپور نے متاثرہ جگہ کی مرمت کر نے تک منگلا ڈیم میں پانی کی بھرائی پر پابندی لگا دی تھی۔ واپڈا کے اس غیر ذمہ دارا ہ رویئے پر کمشنر منگلا ڈیم آزاد کشمیر کا کنہا ہے کہ اگر ڈیم میں پا نی کی بھرائی کو جاری رکھا گیا تو اگلے دس روز میں پا نی خالق آباد کی متاثرہ جگہ پر پہنچ جائے گا۔ متاثرہ جگہ پر پا نی پہنچنے  سے

منگلا ڈیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خالق آباد کے قریب منگلا ڈیم ٹوٹنے سے میرپور کا نواحی علاقہ  اور پنجاب کے شہروں سرگودھا اور منڈی بہاﺅ الدین کی شہری آبادیاں اور زرعی زمینیں زیرآ ب آ سکتی ہیں۔

کمشنر منگلا ڈیم امور کا مزید کنہا تھا کہ منگلا ڈیم کو نقصا ن پہنچنے کی صورت میں ذمہ دار واپڈا حکام ہوں گے۔ ا نہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم قومی اثاثہ ہے جس کی حفاظت واپڈا سمیت سب کی ذمہ داری ہے اور اس اہم قومی منصوبے کے لئے کشمیریوں نے بے پناہ قربا یاں بھی دی ہیں۔

مزید : میرپور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے