وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی مسلم لیگ ن کے ریڈار پر آگئے، استعفے کا بھی مطالبہ مگر کیوں؟ 2 ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی مسلم لیگ ن کے ریڈار پر آگئے، استعفے کا بھی مطالبہ مگر کیوں؟ 2 ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں


وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی مسلم لیگ ن کے ریڈار پر آگئے، استعفے کا بھی …

لاہور (کالم: نسیم شاہد) آج کل مسلم لیگ (ن) کا ہر دوسرا رہنما وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے میں حیران ہوں کہ کل تک عثمان بزدار کو کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کہہ کر اہمیت نہ دینے والے آج انہیں اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں کیا صرف وزیر اعظم عمران خان کا مطالبہ کافی نہیں جو پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے اور اب چینی آٹا سکینڈل کی رپورٹ آنے کے بعد بھی کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اگر عمران خان مستعفی ہو جاتے ہیں تو عثمان بزدار خود بخود گھر چلے جائیں گے پھر عمران خان سے بھی زیادہ زور عثمان بزدار کے استعفا پر کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیا مسلم لیگ (ن) یہ سمجھنے لگی ہے کہ عثمان بزدار اگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہتے ہیں تو اپنے کاموں کی وجہ سے وہ شہباز شریف کو پیچھے چھوڑ جائیں گے؟ کیا عثمان بزدار میں واقعی اتنی سکت اور صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) انہیں چلتا کرنا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ ابتداء میں جب عمران خان نے عثمان بزدار کو تونسہ سے اٹھا کر تختِ لاہور پر بٹھایا تو یہ مسلم لیگ (ن) ہی تھی جس نے یہ اعتراض کیا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کو ایک اناڑی نوجوان کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ تک کہا جاتا تھا کہ عثمان بزدار کو تو سمری پر دستخط تک کرنے نہیں آتے، پھر یہ بھی کہا جاتا رہا کہ عثمان بزدار تو پریس کانفرنس کرتے ہوئے دو جملے نہیں بول سکتے انہیں اپنے ساتھ کھڑے ہوئے افسران کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایسی باتیں کر کے در حقیقت مسلم لیگ رہنما عمران خان پر بلواسطہ تنقید کرتے تھے۔ عثمان بزدار بھی اتنے سادہ ہیں کہ سب کے سامنے یہ تسلیم کرتے رہے کہ میں نیا ہوں، سیکھ رہا ہوں، جلد سیکھ جائوں گا۔ ایسی باتیں میڈیا بار بار چلاتا، کل تک عثمان بزدار کو طنز کا نشانہ بنانے والی مسلم لیگ (ن) آج ان کے بارے میں اتنی سنجیدہ کیوں ہو گئی ہے کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے کیا واقعی عثمان بزدار وزیر اعظم عمران خان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی بن گئے ہیں کیا پنجاب کی سیاست میں عثمان بزدار کی جداگانہ شناخت قائم ہو گئی ہے، کیا عثمان بزدار کی وجہ سے پنجاب کی سیاست کا مزاج تبدیل ہو رہا ہے۔؟

دو روز پہلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے راجن پور، و ہوا اور کوہ سلیمان کا دورہ کیا۔ یہ پنجاب کے وہ علاقے ہیں، جہاں صوبے کا حاکمِ اعلیٰ شاذو نادر ہی آتا ہے۔ عثمان بزدار نے تختِ لاہور کو صرف لاہور تک محدود رکھنے کی بجائے اڑن کھٹولا بنا دیا ہے۔ جو صوبے کے مختلف بلکہ دور دراز حصوں تک پہنچتا ہے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ آپ ڈیرہ غازیخان ڈویڑن میں جہاں بھی چلے جائیں، لوگ ایک ہی بات کہیں گے کہ عثمان بزدار کی اس لئے مخالفت کی جا رہی ہے کہ وہ اپر پنجاب سے نہیں، یہاں کے پسماندہ علاقے سے ایک شخص کو وزیر اعظم عمران خان نے صوبے کی حکمرانی سونپ دی، جو روائیتی سیاستدانوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ جنوبی پنجاب میں عثمان بزدار نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا ہے۔ ڈی جی خان ڈویڑن جو اس خطے کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔ اگلے چند برسوں میں ترقی یافتہ شہروں کے برابر آ جائے گا۔ اسی ڈی جی خان ڈویڑن سے دوست محمد کھوسہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا موقع ملا تھا، مگر شریف برادران نے انہیں لاہور سے باہر نکلنے نہیں دیا اور وہ خود بھی اقتدار کی چکاچوند سے ایسے متاثر ہوئے کہ سب کچھ بھول گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہیں اقتدار سے باہر کیا گیا تو کوئی ایک بھی ان کے جانے پر افسوس کرنے والا نہیں تھا۔

مجھے ایک سینئر بیورو کریٹ نے جو وزیر اعلیٰ کے بہت قریب ہیں، بتایا کہ کل اور آج کے عثمان بزدار میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کل تک وہ افسران سے سیکھتے تھے، آج وہ ہمیں سکھاتے ہیں۔ اور باریک بینی سے ہر چیز کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان میں سیکھنے کی صلاحیت ہے اور وہ ہمہ وقت صوبے کے ہر معاملے پر سوچ و بچار کرتے ہیں کرونا وائرس جب سے آیا ہے، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بہت زیادہ متحرک ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے اقدامات پر ان کی گہری نظر ہے اور اس کے ساتھ وہ اس کے اثرات سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملات پر بھی روزانہ میٹنگ کرتے ہیں پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے آبادی کے لحاظ سے یہ تینوں صوبوں کی عمومی آبادی سے بھی بڑا ہے۔ ظاہر ہے اس کے مسائل بھی دیگر صوبوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں، ان کی ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر نظر ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پنجاب میں کرونا کیسز کی تعداد دوسرے صوبوں کی نسبت بہت کم ہے۔ یہاں صحت کے شعبے کی بہتری کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ قرنطینہ سنٹرز اور عارضی ہسپتال بنا دیئے گئے ہیں کرونا مریضوں کے علاج و تشخیص کی استعداد مزید بڑھائی جا رہی ہے۔ لاک ڈاو¿ن سے متاثر ہونے والوں کو ریلیف دینے کے لئے امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ صوبے میں کہیں آٹے یا اشیائے خوردونوش کی کمی نہیں۔ امن و امان کی صورتِ حال بھی کنٹرول میں ہے۔ صاف لگ رہا ہے کہ صوبے میں ایک مو¿ثر حکومت کام کر رہی ہے اور اس کا کریڈٹ بجا طور پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ملنا چاہئے۔

بیورو کریٹس عموماً منتخب لوگوں کی تعریف نہیں کرتے اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اس لئے مجھے ان کی یہ باتیں کچھ عجیب لگیں۔ تاہم اتنا تو سب مانتے ہیں کہ 2018ئ میں حلف اٹھانے والے عثمان بزدار اور آج کے عثمان بزدار میں بہت فرق ہے۔ شروع میں تو ان کے بارے میں جو بھی کہا جاتا، سچ سمجھا جاتا تھا، مگر اب چند دن پہلے ایک صحافی نے جب اپنی خبر میں یہ انکشاف کیا کہ عثمان بزدار ایک میٹنگ میں یہ سوال پوچھتے رہے کہ کرونا کاٹتا کیسے ہے؟ تو سبھی نے اس خبر کو من گھڑت اور جان بوجھ کے تضحیک کرنے کی ایک کوشش قرار دیا کیونکہ ایسی بات تو کوئی عام آدمی بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ میڈیا پر کرونا وائرس کی اتنی زیادہ تشہیر ہو چکی ہے کہ ہر کوئی اس سے آگاہ ہے چہ جائیکہ عثمان بزدار سے اسے منسوب کیا جائے جو روزانہ کرونا وائرس کے حوالے سے میٹنگز کرتے ہیں۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ عثمان بزدار مسلم لیگ (ن) کے ریڈار پر کیوں آ گئے ہیں؟ تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ابھی تک عثمان بزدار پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا، وہ ایک صاف ستھرے حکمران کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ دوسرا وہ پنجاب میں یکساں ترقی کے وڑن پر کام کر رہے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے لاہور کو بھلا دیا ہے۔ لاہور میں انڈر پاسز اور فلائی اوور کے منصوبے عنقریب شروع ہونے جا رہے ہیں۔ صوبے میں تقرر و تبادلے بھی میرٹ پر ہو رہے ہیں اور بیورو کریسی نیز پولیس کو چیف سکریٹری اور آئی جی نے کڑی نگرانی میں رکھا ہوا ہے۔ پنجاب وہ صوبہ ہے کہ جس میں سوائے شہباز شریف کے کسی کو دو اڑھائی سال بھی گزارنے کی مہلت نہیں ملی، جبکہ عثمان بزدار کے بارے میں عمران خان کہہ چکے ہیں کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے، وہ وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ اب ایسے حالات میں جب چینی کے بارے انکوائری رپورٹ میں پنجاب حکومت کی طرف سے تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کا معاملہ سامنے آیا تو گویا مسلم لیگ (ن) کی مراد برآئی اس نے اس بنیاد پر عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ کر دیا، حالانکہ پنجاب میں چینی پر سبسڈی تو شہباز شریف کے زمانے میں بھی دی جاتی رہی، پھر یہ فیصلہ اکیلے عثمان بزدار نے نہیں پوری کابینہ نے کیا جبکہ رپورٹ میں عثمان بزدار کا ذکر تک موجود نہیں، کل تک عثمان بزدار مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک ذرہءبے مایہ تھے، آج انہیں وہ طوطا سمجھ رہی ہے، جس میں وزیر اعظم عمران خان کی جان ہے۔ اس لئے پہلے انہیں مار گرانے کے درپے ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے