وہ انجیکشن جو پاکستان میں بچوں کو لگائے جاتے ہیں اب سائنسدانوں نے کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے استعمال کرنے پر غور شروع کردیا

وہ انجیکشن جو پاکستان میں بچوں کو لگائے جاتے ہیں اب سائنسدانوں نے کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے استعمال کرنے پر غور شروع کردیا


وہ انجیکشن جو پاکستان میں بچوں کو لگائے جاتے ہیں اب سائنسدانوں نے کورونا …

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ماہرین نے کورونا وائرس کے مریضوں پر نئی دوا کا تجربہ شروع کر دیا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ دوا وہ انجکشن ہے جو دہائیوں تک 10سے 14سال کی عمر کے دوران ہر بچے کو لگایا جاتا رہا۔ برطانیہ میں 1953ءسے2005ءتک یہ ٹیکہ ہر بچے کو لگتا رہا تاہم اس کے بعد ان بچوں کو ٹارگٹ کرکے لگایا جانے لگا جن کو انفیکشنز ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اس ٹیکے کا نام ’بی سی جی‘ ہے جو ایک اینٹی ٹیوبر کیولوسس دوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیکہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کا علا ہو سکتا ہے چنانچہ برطانیہ سمیت 4ممالک کے ماہرین اس ٹیکے کے تجربات شروع کرنے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ کورونا وائرس کا انتہائی سستا علاج ہو گااور دنیا میں ہر جگہ دستیاب ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکہ لوگوں کے مدافعتی نظام کو تقویت بخشے گا جس سے مدافعتی نظام کورونا وائرس کا جلد سراغ لگا لے گا اور جسم کو نقصان پہنچنے سے پہلے ہی اسے ختم کر دے گا۔واضح رہے کہ ماضی میں کئی تحقیقات میں ثابت ہو چکا ہے کہ بی سی جی نامی یہ ٹیکہ ٹی بی کے علاوہ تمام انفیکشس بیماریوں کے لیے موثر ہے۔

مزید : تعلیم و صحت /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے