ٹی 20 ورلڈکپ کے ”کورونا فری“ انعقاد کیلئے انتہائی اقدامات کئے جانے کا امکان، منتظمین کیا سوچ رہے ہیں؟ تمام تفصیلات جانئے

ٹی 20 ورلڈکپ کے ”کورونا فری“ انعقاد کیلئے انتہائی اقدامات کئے جانے کا امکان، منتظمین کیا سوچ رہے ہیں؟ تمام تفصیلات جانئے


ٹی 20 ورلڈکپ کے ”کورونا فری“ انعقاد کیلئے انتہائی اقدامات کئے جانے کا امکان، …

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ”کورونا فری“ ٹی 20 ورلڈ کپ کے انعقاد کیلئے منتظمین سرجوڑکربیٹھ گئے اور اس مقصد کیلئے انتہائی اقدامات کئے جانے کا امکان ہے جبکہ کرکٹ آسٹریلیا نے بینکوں سے 200 ملین ڈالر قرض کیلئے کارروائی کی تیاری بھی کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس وقت جہاں پوری دنیا کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے وہیں پر رواں برس آسٹریلیا میں شیڈول مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے منتظمین ایونٹ اپنے وقت پر ہی کرانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے بھی واضح کیا تھا کہ ورلڈکپ کے اکتوبر، نومبر میں ہی انعقاد کیلئے منصوبہ بندی جاری ہے۔ یہ ایونٹ 18 اکتوبر سے 15 نومبر تک آسٹریلیا کے 7 وینیوزپرکھیلا جائے گا جبکہ اسی سال آسٹریلیا میں ہی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کا انتہائی کامیاب انعقاد کیا گیا جس کے میلبورن کرکٹ گراﺅنڈ میں کھیلے گئے فائنل میں ریکارڈ 86 ہزار 174 تماشائیوں نے شرکت کی۔

اس وقت آسٹریلیا کی سب سے بڑی فٹ بال لیگ موسم سرما میں ایونٹ کے بند دروازوں کے پیچھے انعقاد کی منصوبہ بندی کررہی ہے،البتہ موسم گرما میں کرکٹ سیزن پربدستور غیریقینی چھائی ہوئی ہے، اگرچہ ایونٹ ابھی 6 ماہ کی دوری پر ہے مگر میزبان کرکٹ آسٹریلیا کو اپنے ہوم سیزن کی بھی فکر ستانے لگی جس نے پہلے ہی بینکوں سے 200 ملین ڈالر قرض کیلئے کارروائی کی تیاری کرلی،اسے اصل خدشہ بھارت کے خلاف سال کے آخر میں شیڈول 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے حوالے سے ہے جس سے بورڈ کو 300 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی متوقع ہے۔

ورلڈ کپ منتظمین کیلئے پریشان کن بات آسٹریلیا کی سرحدوں کا مستقبل قریب میں بند رہنا ہو گا، اسی لئے آرگنائزرز ہنگامی اقدامات پر غور کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منتظمین 400 سے 500 کے درمیان پلیئرز، ٹیم سٹاف اور میچ آفیشلز کو کم سے کم 15 ممالک سے محفوظ طریقے سے آسٹریلیا لانے کے حوالے سے میڈیکل ایڈوائس حاصل کررہے ہیں، وہ پہلے ہی منتخب کرکٹرز کے اپنے ممالک میں کورونا ٹیسٹ اور انہیں سفر سے قبل وہیں پر ہی قرنطینہ کرنے پر غور شروع کرچکے،اس کیلئے ایک بڑی لاجسٹک مشق کی نہ صرف ضرورت پڑے گی بلکہ شریک ملک سے منظوری بھی درکار ہوگی۔

ورلڈ کپ کیلئے پاکستان، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، افغانستان، بھارت، سری لنکا، آئرلینڈ، اومان، پاپوا نیوگنی، بنگلہ دیش، نمیبیا، نیدرلینڈز اور سکاٹ لینڈ سے پلیئرز اور آفیشلز کو آسٹریلیا آنا ہے، جہاں پر فی الحال غیرملکی افراد کے آنے پر پابندی ہے مگر توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے عرصے میں صورتحال بہتر ہونے پر اس پابندی میں نرمی ہو جائے گی۔

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے