پاکستانیوں کے قرض میں ہوشربا اضافہ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

پاکستانیوں کے قرض میں ہوشربا اضافہ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی


پاکستانیوں کے قرض میں ہوشربا اضافہ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس اس خواہش کا اظہارکیاتھاکہ وہ قوم پر مسلط قرض کو کم از کم نصف تک لے جائیں تاہم ان کی یہ خواہش اب پوری ہوتی نظر نہیں آرہی کیونکہ ان کی حکومت قوم پر گزشتہ ایک سال میں 6ٹریلین قرض کااضافہ کرچکی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق فروری کے اختتام پرگزشتہ سال فروری کی نسبت 33 اعشاریہ 4ٹریلین اضافہ ہو جس کے ساتھ وفاقی حکومت کے قرضوں میں چھ اعشاریہ تین فیصد قرض کا اضافہ ہوچکا ہے۔

گزشتہ سال فروری میں وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کااظہارکیاتھا کہ وہ قومی قرض کو 20 ٹریلین روپے تک لائیں گے تاہم گزشتہ برس اٹھائے گئے پاکستان تحریک انصاف کے اقدامات سےمحسوس ہوتا ہے کہ 2023 میں جب یہ حکومت اقتدار چھوڑے گی تو قرضوں کا حجم دگنا ہوچکا ہوگا۔

  

ماضی کی حکومتوں نے اکہتر برس میں 24 اعشاریہ 2 ٹریلین روپے کے قرض لئے ہیں تاہم وزارت فنانس نے پیشگوئی کی ہے کہ تحریک انصاف کی پانچ سالہ حکومت میں یہ قرض 47 ٹریلین روپے تک ہوسکتے ہیں۔

جب عمران خان وزیراعظم بنے تو اس وقت پاکستان پر 24 اعشاریہ 2ٹریلین قرض تھا اور اس میں نو اعشاریہ دو ٹریلین مزید قرض لیاجاچکا تھا۔

سٹیٹ بینک بلیٹن کے مطابق گزشتہ برس فروری میں قرضوں کا حجم 27 اعشاریہ 5 فیصد تھا جو فروری 2020میں 33 اعشاریہ 4ٹریلین ہوگیا ہے۔جیسے ہی فروری کا مہینہ ختم ہوا قومی قرضوں میں 5اعشاریہ 9فیصد یا دوسرے لفظوں میں 21 اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ہوا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق صورتحال مزید خوفناک ہوسکتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کے بعد کی صورتحال مزید مشکلات کا سبب بن سکتی ہے اور ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں کمی ہونے کاامکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ بیس ماہ میں ایف بی آر کے چار چیئرپرسنز تعینات کیے ہیں تاہم ریونیو میں کمی کا سلسلہ تھمنے کے بجائے وسیع ہوا۔

گزشتہ برس وزیراعظم کو ڈویلپرز اور بلڈرز کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کرنا پڑے جبکہ اس سے قبل انہیں ٹیکسوں میں اضافے کی کوشش کے دوران تاجروں سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔حکومت پچاس ہزار روپے کا سامان خریدنے والے دکانداروں کے شناختی کارڈ کی کاپی جمع کروانے کی شرط پر بھی سیاسی حمایت حاصل نہ کرسکی۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر بھی امریکی ڈالرز کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے اور ڈالر 167روپے سے بھی تجاوز کرگیا ہے جس کی وجہ سے قرضوں کے حجم میں پانچ اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا اور قرض آٹھ ماہ میں تینتیس اعشاریہ چار ٹریلین تک پہنچا جبکہ فروری کے اختتام پر اس میں مزید ایک اعشاریہ چھ چار ٹریلین کااضافہ ہوا۔

 ایکسپریس ٹربیون کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت کا عمومی قرض، گارنٹیز اور عالمی مالیاتی ادارے لیا گیا قرض ملک کی مجموعی شرح پیداوار(جی ڈی پی) سے بھی بڑھ گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے اس حوالے سے قرضوں کے حجم میں جی ڈی پی سے 84 اعشاریہ سات فیصد اضافے یا دوسرے لفظوں میں قرضوں کے سینتیس اعشاریہ چھ فیصد تک بڑھنے کے امکانات ظاہرکررکھے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت کا مجموعی اندرونی قرض گزشتہ برس جون کے قرض بیس اعشاریہ سات ٹریلین سے بڑھ کر بائیس اعشاریہ سات ٹریلین ہو چکا ہے جس میں ایک اعشاریہ چار ٹریلین روپے کے نیٹ ایڈیشن کی ایک بڑی رقم شامل ہے ۔اس کے ساتھ طویل مدتی قرض پندرہ اعشاریہ دو ٹریلین سے سولہ اعشاریہ نو ٹریلین ہوچکا ہے۔

طویل مدتی قرض کے مجموعی حجم میں ایک اعشاریہ سات ٹریلین یا دس اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ان قرضوں میں اضافے کی وجہ مرکزی بینک سے لیے گئے مختصر مدت کے قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے۔

اس اقدام سے جون دوہزار انیس میں مختصر مدت کا قرض جوکہ پانچ اعشاریہ پانچ ٹریلین سے کم ہو کر فروری دوہزار بیس میں پانچ اعشاریہ تین ٹریلین ہوگیا ہے۔اس طرح قلیل مدتی قرضوں میں دو سو ارب روپے کی کمی ہوچکی ہے۔ 

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے