پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، نئے اعداد و شمار جاری

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، نئے اعداد و شمار جاری


پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، نئے اعداد و شمار جاری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 3059 ہوگئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران  پاکستان میں کورونا وائرس کے 179 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر3059 ہوگئی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 45 انسانی زندگیاں ضائع ہوئی ہیں، اس وقت 18 مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 170 مریض صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔

پنجاب میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 1319 ہوگئی ہے۔ سندھ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 881، خیبر پختونخوا میں 372، گلگت بلتستان میں 206، بلوچستان میں 189،  اسلام آباد میں 78 اور آزاد جموں و کشمیر میں کورونا کے 14 مریض ہیں۔

پاکستان کے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کورونا میں مبتلا

کراچی کے علاقے قائد آباد میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ گھرانے کی ایک لڑکی برطانیہ سے شادی میں شرکت کیلئے آئی تھی ۔

کیا چین سے گھٹیا کوالٹی کے این 95 ماسک آئے؟

چینی سفارتخانے نے وضاحت کی ہے کہ چین نے پاکستان کو گھٹیا کوالٹی کے این 95 ماسک نہیں دیے، چین کی جانب سے بھجوایا جانے والا سامان نہ صرف اعلیٰ معیار کا ہے بلکہ بھجوانے سے قبل اس کا مکمل معائنہ بھی کیا گیا ہے۔

حکومت کے پاس دیہاڑی دار افراد کا ڈیٹا نہیں

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹرثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ لاک ڈاون سے متاثر ہونے والے دیہاڑی دار افرادکا ڈیٹا حکومت کے پاس نہیں ہے، ضلعی سطح پر مستحقین کی فہرستیں تیار کرنے کو کہا ہے، احساس کفالت پروگرام میں پہلے سے رجسٹرڈ خواتین کو یکمشت 12ہزار روپے کی ادائیگی کی جارہی ہے۔

کورونا ٹائیگر فورس

وزیر اعظم کی کورونا ٹائیگر فورس میں نوجوانوں کی شمولیت تیزی سے جاری ہے۔ 6 لاکھ کے قریب رضا کاروں نے سٹیزن پورٹل کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کرالی ہے۔

          لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں کمی

کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں کمی آئی ہے جس کے بعد بلند پہاڑی سلسلے سینکڑوں کلومیٹر دور سے نظر آنے لگے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے رجوری کے پہاڑی سلسلے کو سیالکوٹ سے صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے