پاکستان کرکٹ اور باﺅلنگ درست سمت میں گامزن، ورلڈ ٹی 20 ورلڈکپ جیتنے کیلئے بھرپور کوشش کریں گے: وقار یونس

پاکستان کرکٹ اور باﺅلنگ درست سمت میں گامزن، ورلڈ ٹی 20 ورلڈکپ جیتنے کیلئے بھرپور کوشش کریں گے: وقار یونس


پاکستان کرکٹ اور باﺅلنگ درست سمت میں گامزن، ورلڈ ٹی 20 ورلڈکپ جیتنے کیلئے …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے باﺅلنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بعد فارغ وقت کا بہترین استعمال کرنے کیلئے ہم نے ایک اچھا پلان وضع کر رکھا تھا اور دورہ انگلینڈ کی تیاریوں کیلئے بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے بہترین باﺅلرز کو ساتھ لے کر جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ جیت کر واپس آئیں۔

تفصیلات کے مطابق وقار یونس نے کہا کہ گرین شرٹس نے ورلڈ کپ، ٹی 20 ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی نوجوان کرکٹرز کی کارکردگی کے بل بوتے پر جیتیں، میں ہمیشہ سے ہی نوجوان کرکٹرز کو مواقع دینے کے حق میں رہا ہوں، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور محمد حسنین سمیت فاسٹ باﺅلرز کے پاس سپیڈ کا ہتھیار اور مہارت موجود ہے، ابھی نو عمر ہونے کی وجہ سے انجریز کے مسائل بھی ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہوں گے، ہمیں بھی نوجوانی میں یہ مسائل پیش آتے رہے، نوجوان فاسٹ باﺅلرز کو تجربہ بھی حاصل ہوتا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یارکر کرنا انتہائی مہارت کا کام ہے، پی ایس ایل میں شاہین شاہ آفریدی نے اس ہنر کا بخوبی استعمال کیا جبکہ دیگر باﺅلرز کو بھی یہ فن سکھانے کی کوشش کریں گے، وطن واپسی کے بعد مزید جونیئر باﺅلرز کی صلاحیتیں بھی نکھارنا چاہوں گا، ہماری پالیسی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے باﺅلنگ اٹیک میں زیادہ تبدیلیاں نہ کریں البتہ محدود اوورز کے مقابلوں میں روٹیشن پالیسی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ہمارے پاس 8 سے 10 بولرز کی کھیپ موجود ہو۔

وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ اور باﺅلنگ درست سمت میں گامزن ہے، باﺅلرز ردھم میں آ رہے تھے اور جیت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا، ایک سے دو مہینوں میں حالات ٹھیک ہو گئے تو فاسٹ باﺅلرز کے ردھم پر اتنا زیادہ فرق نہیں پڑے گا، فی الحال ٹریننگ جاری رکھنے کے ممکنہ طریقے بھی بتا دئیے لیکن جو مشقیں میدان میں اتر کر ہوسکتی ہیں وہ گھر پر ممکن نہیں، ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق کے پاس ایک مکمل پلان موجود ہے،جیسے ہی موقع پیدا ہوا وہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ کا سلسلہ شروع کرادیں گے، میں خود بھی باﺅلرز کے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔

باﺅلنگ کوچ نے کہا کہ میں نے اپنے طور پر جو اہداف مقرر کئے ہیں ان کے مطابق ہمیں 18 ماہ میں 10 باﺅلرز تیار کرنے ہیں تاکہ ہم فارمیٹ کی ضروریات کے مطابق انہیں استعمال کرسکیں، ہمارے دور میں میرے اور وسیم اکرم کے علاوہ بھی اتنے باﺅلرز تھے کہ مزید2 ٹیمیں بن سکتیں، انہوں نے کہا کہ میں بطور کھلاڑی یا کوچ کبھی میگا ایونٹ نہیں جیت سکا اس لئے کوشش ہوگی کہ ورلڈ ٹی 20میں یہ خواب پورا ہو، ہم بہترین باﺅلرز کو ساتھ لے کر جائیں گے۔

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے