پاکستان ہائوس میں قرنطینہ کے مسافروں کی روانگی کے بعد ان کے زیراستعمال سامان کا کیا بنا ؟ ایسی خبر کہ آپ بھی ایسی کاوش پر داد دیں گے

پاکستان ہائوس میں قرنطینہ کے مسافروں کی روانگی کے بعد ان کے زیراستعمال سامان کا کیا بنا ؟ ایسی خبر کہ آپ بھی ایسی کاوش پر داد دیں گے


پاکستان ہائوس میں قرنطینہ کے مسافروں کی روانگی کے بعد ان کے زیراستعمال سامان …

کوئٹہ (ویب ڈیسک) پاکستان ہائوس میں 15 روز قرنطینہ میں گزارنے والے زائرین کی روانگی کے بعد ان کے زیر استعمال سامان کو آگ لگاکر تلف کردیا گیا۔پاکستان ہائوس میں گزشتہ 15 دنوں سے قرنطینہ میں رکھے گئے ان زائرین میں سے ایک بچے میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی تھیں جب کہ باقی کو کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

جیو نیوز کے مطابق کلیئر قرار دیے گئے تمام زائرین کو گزشتہ روز 55 بسوں کے ذریعے کوئٹہ منتقل کردیا گیا جہاں سے انہیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جائے گا۔تحصیل دار تفتان ظہور احمد بلوچ کے مطابق زائرین کی روانگی کے بعد پاکستان ہائوس میں اسپرے کیا گیا اور زائرین کے زیر استعمال استعمال بستروں سمیت دیگر سامان کو آگ لگا کر تلف کیا گیا۔تحصیل دار نے بتایا کہ پاکستان ہائوس میں اسپرے کے بعد نئے بستر اور چارپاہیاں لگائی گئی ہیں۔

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثر افراد کی تعداد 145,695 جبکہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات 5,436 ہیں اور کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 72,536 ہے۔

تحصیل دار کے مطابق تفتان مین اب بھی 3 ہزار سے زائد زائرین اور مسافر موجود ہیں جن کی اسکریننگ ہر 48 گھنٹے کے بعد کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے ایران میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد 23 فروری کو تفتان میں پاک ایران بارڈر کو بند کیا تھا جسے 13 مارچ کو قومی سلامتی کے اجلاس میں 14 روز تک مکمل بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔تفتان کے پاکستان ہائوس میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد گنجائش سے زائد ہوچکی تھی جس کے باعث دیگر زائرین کو پاکستان ہائوس سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاو¿ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے