پیدائش کے طریقہ کار اور لڑکیوں میں موٹاپے کے درمیان گہرا تعلق تازہ تحقیق میں سامنے آگیا

پیدائش کے طریقہ کار اور لڑکیوں میں موٹاپے کے درمیان گہرا تعلق تازہ تحقیق میں سامنے آگیا


پیدائش کے طریقہ کار اور لڑکیوں میں موٹاپے کے درمیان گہرا تعلق تازہ تحقیق میں …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بڑے آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والی لڑکیوں کے لیے امریکی سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایک بڑے نقصان کا انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 33ہزار لڑکیوں پرتحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جو لڑکیاں بڑے آپریشن سے پیدا ہوتی ہیں ان کوموٹاپا اور دوسری قسم کی ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ دوسری لڑکیوں سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل 3فیصد لڑکیاں ایسی تھیں جو بڑے آپریشن سے پیدا ہوئی تھیں۔ ان 3فیصد میں سے 11فیصد میں موٹاپے کا خطرہ فطری طریقے سے پیدا ہونے والی لڑکیوں کی نسبت دو گنا زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ ان کودوسری قسم کی ذیابیطس ہونے کا خطرہ دوسری لڑکیوں کی نسبت 46فیصد زیادہ تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ جارج شیورو کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں لڑکیوں کی بڑے آپریشن سے پیدائش اور ذیابیطس کے درمیان تعلق ثابت ہوا ہے۔ اس تعلق کو جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔“واضح رہے کہ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے مردوں کو شامل نہیں کیا اور ان کی صحت پر طریقہ پیدائش کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے