’کروڑوں لوگ مارے جائیں گے‘ امریکہ میں ان پتھروں پر لکھی تحریر نے کھلبلی مچادی

’کروڑوں لوگ مارے جائیں گے‘ امریکہ میں ان پتھروں پر لکھی تحریر نے کھلبلی مچادی


’کروڑوں لوگ مارے جائیں گے‘ امریکہ میں ان پتھروں پر لکھی تحریر نے کھلبلی …

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا پر ایک پر اسرار گروہ کے غلبے اور اس کی حکمرانی میںاربوں انسانوں کے لقمہ اجل بن جانے کی پیش گوئیاں ایک مدت سے گردش میں ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک عالمی دجالی نظام کی صورت میں اس تباہی کا آغاز ہو بھی چکا ہے۔دنیا کا معاشی کنٹرول ایک طاقتور طبقے کے ہاتھوں میں ہے، جو اربوں انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے۔ اس گروہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نام سے ایک ایسا نظام مسلط کرنے کے لئے کوشاں ہے کہ جو ساری دنیا کو اس کا غلام بنادے گا۔ اس دجالی نظام اور نیو ورلڈ آرڈر کی متعدد علامات بیان کی جاتی رہی ہیں، لیکن امریکی ریاست جارجیا میں بلند پتھریلی سلوں پر تحریر ایک پر اسرار عبارت کو اس نظام کا اصل نقشہ اور اربوں انسانوں کی موت کی پیش گوئی قرار دیا جا رہا ہے۔

 اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کے مطابق ”گائیڈ سٹونز“ کہلانے والی گرینائٹ پتھر کی چار سلوں کی اونچائی 20فٹ ہے اور ان کے اوپر ایک بڑا پتھر افقی زاویے پر رکھا گیا ہے۔ پتھر کی ان سلوں پر وہ 10 پیش گوئیاں درج ہیں جنہیں ”دجال کے 10 احکامات“ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ احکامات چاروں سلوں پر 8 مختلف زبانوں میں کچھ یوں تحریر ہیں:

 1 ۔ دنیا کی آبادی 50 کروڑ سے کم رکھنا، تاکہ فطرت کے ساتھ اس کا توازن قائم رہے۔

2 ۔ افزائش نسل دانشمندی سے کرنا، تاکہ صحت اور تنوع میں بہتری آئے۔

3 ۔ ایک نئی زندہ زبان کے ذریعے انسانیت کو متحدہ کرنا۔

4 ۔ جذبے، عقیدے اور روایت جیسی ہر شے کی بنیاد عقل پر رکھنا۔

5 ۔ عدل پر مبنی قانون اور عدالتوں کے ذریعے لوگوں کا تحفظ کرنا۔

6 ۔ ہر ملک صرف اپنے داخلی معاملات کو دیکھے، جبکہ تمام بین الاقوامی تنازعات کا تصفیہ ایک عالمی عدالت کرے۔

7 ۔ لایعنی قوانین اور بیکار ملازمین سے بچنا ۔

8 ۔ ذاتی حقوق اور سماجی فرائض کے درمیان توازن رکھنا۔

 9 ۔ سچ، خوبصورتی اور محبت کو اہم جاننا اور لامتناہی کے ساتھ ہم آہنگی تلاش کرنا۔

10۔  زمین پر سرطان مت بننا، فطرت کو جگہ دینا، فطرت کو جگہ دینا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پتھر کی اتنی بڑی سلیں کھڑی کی گئیں، اور ان پر 8 مختلف زبانوں میں احکامات لکھے گئے،لیکن کسی کو آج تک معلوم نہیں کہ یہ کام کس نے اور کیوں کیا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ سلیں مارچ 1980ءمیں کسی شخصیت نے تعمیر کروائیں، جسے آر سی کرسچیئن کا فرضی نام دیا جاتا ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے البرٹن گرینائٹ فنشنگ کمپنی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ گرینائٹ پتھر سے یہ سلیں کھڑی کی جائیں، اور ان کے اوپر 10 احکامات تحریر کئے جائیں۔

 کچھ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے طاقتور امریکیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے جو کہ پوری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کا خواب رکھتا ہے اور اس خواب کے حصول کے لئے دنیا میں معاشی اور سیاسی غلبے کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس گروپ کا منصوبہ دنیا کی آبادی میں چھ ارب کی خوفناک کمی کرکے باقی ماندہ انسانوں کو اپنے نئے نظام کے تابع کرنا ہے۔

دانشمندی سے افزائش نسل کرنے کے حکم کو دراصل ”یوجینکس“ کی سائنس کی طرف اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس سائنسی علم کے ذریعے انسانوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرکے اپنی مرضی کے خواص پیدا کئے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نازی جرمنی کے دور میں اعلیٰ ترین صفات کی حامل ایک خاص انسانی نسل پیدا کرنے کے لئے کی جانے والی کوششیں ان ہدایات کی روشنی میں ایک دفعہ پھر شروع کی جائیں گی، اور یہی محدود نسل دنیا پر حکمرانی کرے گی، جبکہ باقی سب انسان اس کے غلام ہوں گے۔

 

مزید :

بین الاقوامی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے