کرکٹ میں کرپشن، راشد لطیف نے آئی سی سی اور بورڈز کے کردار پر سوال اٹھا دیا، ایسی باتیں کہہ دیں کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے

کرکٹ میں کرپشن، راشد لطیف نے آئی سی سی اور بورڈز کے کردار پر سوال اٹھا دیا، ایسی باتیں کہہ دیں کہ ہر کوئی سوچ میں پڑ جائے


کرکٹ میں کرپشن، راشد لطیف نے آئی سی سی اور بورڈز کے کردار پر سوال اٹھا دیا، …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے فکسنگ کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور کرکٹ بورڈز کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی سی سی یا بورڈز کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سے دور رہو، جن سے دور رہنے کاکہا جاتا ہے ان کی تو فرنچائز ٹیمیں ہیں، پاکستان میں بھی ماضی کے بورڈ سربراہان معاملات کے بارے میں جانتے ہیں، اگر بورڈ ملوث ہوگا تو پلیئر کس طرح محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے بڑے عہدوں پر بٹھائے جانے والے ڈمی اور ان کو لانے والے 6 سے 8 تک افراد ہوتے ہیں، ان کاروباری شخصیات کے اپنے بینک اکاﺅنٹ ہی پی سی بی کے بجٹ سے بھاری ہوتے ہیں۔تمام بورڈز اپنے مخصوص کھلاڑیوں کا بچاؤ کرتے رہے ہیں، اسی وجہ سے تو فرنچائز ونڈو کھولنا پڑی کہ یہاں جو کرنا ہے کرو انٹرنیشنل کرکٹ میں نہ کرو، بڑے شکوک و شبہات ہیں۔

ایک سوال پر راشد لطیف نے کہا کہ کسی بھی جرم میں سزا یافتہ شخص کو سرکاری ملازمت نہیں دی جاتی، ہمارے ہاں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف سب گورنمنٹ کے اداروں میں کیسے بھرتی ہوگئے، انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی نے خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو ڈھائی سال قبل ہی ملازمت سے فارغ کر دیا تھا، اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے