کوروناکیخلاف جنگ لیکن سپین میں موجود پاکستانیوں نے ایسا کام کردکھایا کہ ہرکوئی داد دینے پر مجبور ہوگیا

کوروناکیخلاف جنگ لیکن سپین میں موجود پاکستانیوں نے ایسا کام کردکھایا کہ ہرکوئی داد دینے پر مجبور ہوگیا


کوروناکیخلاف جنگ لیکن سپین میں موجود پاکستانیوں نے ایسا کام کردکھایا کہ …

میڈرڈ(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرکی طرح کورونا وائرس نے سپین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن وہاں موجود پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نے طبی عملے کو مفت لانے اور لے جانے کے لیے اپنی سروسز فراہم کردیں، تقریباً ڈیڑھ سوپاکستانی ڈرائیور بارسلونا اور سپین میں مفت سروسز فراہم کررہے ہیںجن کویورپی ملک میں موجود اور بیرون ملک مقیم افراد بھی داد دینے پر مجبور ہوگئے ۔

جرمن میڈیا کے مطابق ہسپتالوں کے باہر پاکستانی ڈرائیور کھڑے رہتے ہیں جو نرسوں، پیرامیڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کو لانے، لے جانے کی فری سروسز فراہم کررہے ہیں،پاکستانی ڈرائیور محمد شہباز کھٹانہ نے بتایاکہ کورونا کیخلاف جنگ میں جتنے بھی ڈاکٹر کام کررہے ہیں، ان کو گھر سے ہسپتال اور ہسپتال سے گھر تک فری سروس دیتے ہیں، شروع میں چند دوستوں نے شروع کیاتھا، پھر پچا س تک تعداد پہنچی اور اب ڈیڑھ سو ٹیکسی ڈرائیور ہیں جو سپین اور بارسلونا میں ڈاکٹر ز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو مفت سروس فراہم کررہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکسی ڈرائیور تمام احتیاطی تدابیر اپناتے ہیں تاکہ خود اس وائرس سے محفوظ رہ سکیں،ہسپتالوں کے پاس ڈرائیوروں کے نمبر موجودہیں اور ضرورت کے مطابق انہیں کال کرکے بلالیتے ہیں۔پاکستانی ڈرائیور کیساتھ گاڑی میں سفرکرتی نرس کارن ریا نے بتایاکہ میں ہسپتال وائے دے ابرون میں نرس ہوں اور آپ سب کی شکرگزار ہوں، یہ ایک نیک کام اور یکجہتی کا اظہار ہے ۔

ایک اور ڈرائیور سید شیراز نے بتایاکہ میں پاکستان سے ہوں اورمجھ سمیت سینکڑوں پاکستانی ڈرائیور سوشل سروسز فراہم کررہے ہیں، جب بھی کوئی سانحہ ہوتاہے توہم ہمہ وقت میزبان ملک کو اپنی سروسز دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، 2017ءمیں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو پاکستانی لوگوں نے دن رات کمیونٹی کی خدمت کی اور فری رائیڈز فراہم کیں، اب جب یہ وائرس پھیلاتو بدقسمتی سے سپین وہ تیسرا بڑا ملک ہے جہاں یہ پھیلتاجارہاہے تو پاکستانی ڈرائیوروں نے فیصلہ کیا کہ وہ فری سروسز دیں گے ۔

پاکستانی ڈرائیور کی گاڑی میں سفر کرنیوالے ڈاکٹر الوارومارتینز نے بتایاکہ وہ دل مارہسپتال میں خدمات فراہم کررہے ہیں، میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورزجو رضاکارانہ طورپر اس مہم میں شامل ہیں، ان کا شکریہ اداکرتاہوں اور ہم مل کر ہی اس بحران سے نکل سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ پولیس اور مقامی آباد کیساتھ مل کر روزانہ شام آٹھ بجے تالیاں بجا کر نرسوں اور ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کی روایت میں بھی شامل ہوتے ہیں، ڈرائیور کا ماننا ہے کہ ان کے اس اقدام سے لوگوں کی مدد بھی ہورہی ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔

پاکستانیوں کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے نادیہ جمیل نامی صارف نے لکھا کہ ’ بارسلونا میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور  کورونا سے لڑائی میں مصروف نرسز اور میڈیکل سٹاف کو فری سروس فراہم کررہے ہیں، وہ ہسپتالوں کے باہر انتظارکرتے ہیں ، ان تمام لوگوں کو سلام جو میڈیکل سٹاف اور ان کو سپورٹ کررہے ہیں، ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے اور محفوظ رہیں گے ، انشا اللہ۔

پاکستان میں سپین کے نام سے بنے اکائونٹ سے بھی بتایا گیا کہ ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز بارسلونا اور دیگر شہریوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف عملے کو مفت ٹرانسپورٹ سروس فراہم کررہے ہیں، اس نیک اقدام پر ان کا شکریہ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /کورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے