کورونا سے متاثر معیشت کو بڑا سہارا سٹیٹ بینک نے شرح سود مزید 2 فیصد کم کردی

mobile logo


کورونا سے متاثر معیشت کو بڑا سہارا، سٹیٹ بینک نے شرح سود مزید 2 فیصد کم کردی

کراچی (ویب ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 21 دن بعد 2 فیصد کمی کر دی ہے۔ ایک ماہ کے دوران یہ تیسری مرتبہ شرح سود کم کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق رواں سال 28 جنوری کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر باقر رضا نے شرح سود کو 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ شرح سود میں کمی کی جائے۔

اس دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارچ کی 17 تاریخ کو شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد شرح سود 12.50 فیصد ہو گئی تھی۔ٹھیک ایک ہفتے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں بڑی کمی کرتے ہوئے 1.5 فیصد کمی کی، 24 مارچ کو شرح سود 11 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک ماہ سے قبل کم عرصے کے دوران ایک مرتبہ پھر شرح سود میں دو فیصد کمی کر دی ہے جس کے بعد یہ شرح سنگل ڈیجیٹ 9 فیصد پر آ گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی، اور تاجر رہنما اکثر حکومت سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ شرح سود کو کم کیا جائے تاکہ کاروبار چلانے میں مزید کمی آ سکے۔

دوسری طرف سٹیٹ بینک نے عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہیگی آئندہ مالی سال کی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ متوقع ہے۔مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد رہے گی۔

اسٹیٹ سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مہگائی کی توقعات اور شرح نمو میں کمی کے سبب آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی سے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری، مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گھریلوں صارفین اور کمپنیوں پر قوت خرید اور قرض کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ شرح سود میں کمی سمیت اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات سے مدد ملے گی مثلاً رعایتی شرح سود پر کمپنیوں کو قرض کی فراہمی، بنیادی رقم کی ادائیگی میں ایک سال کی توسیع، قرض کی ادائیگی کی مدت 90دن سے بڑھا کر 180دن کرنا، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئیے ہسپتالوں کو کم شرح سود پر قرض کی فراہمی کی گئی تاکہ یہ اس بحرانی صورتحال میں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ مقامی سطح پر سرگرمیوں کے اشاریوں مثلاً ریٹیل سیلز، کریڈٹ کارڈ کے اخراجات، سیمنٹ کی پیداوار، برآمدی آرڈرز، ٹیکس جمع کرنا و دیگر اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معیشت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہوئی ہے۔

تاہم اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو مارچ اور اپریل کے انڈیکس کے مطابق مہنگائی کے رجحان میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے دورانیے کی وجہ سے غیریقینی صورتحال انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور شرح نمو میں کمی کے سبب مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں معیشت کے مزید 1.5فیصد سکڑنے کا خطرہ ہے جس کے بعد مالی سال 2021 میں 2فیصد بہتری کا امکان ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 11-12فیصد جبکہ اگلے سال کم ہو کر 7-9فیصد رہنے کا امکان ہے۔تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اشیا کی ترسیل نہ ہونے یا اس میں رکاوٹ کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا خدشہ ہے البتہ معیشت کی کمزور حالت کی وجہ سے یہ دوسرے مرحلے میں سنگین اثرات جاری کرنے سے قاصر رہیں گے۔

آج جاری بیان میں کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد عالمی معیشت مزید ابتر صورتحال سے دوچار ہوئی اور گریٹ ڈپریشن کے بعد عالمی معیشت کے سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف کی جاری رپورٹ کے مطابق یہ 2020 میں مزید 3فیصد سکڑ سکتی ہے۔اسٹیت بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سنگین اثرات 2009 کی عالمی کساد بازاری سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے جب معیشت عالمی مالیاتی بحران کے دوران 0.07سکڑ گئی تھی جبکہ مزید سنگین ترین نتائج کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک نے کہا کہ عالمی معاشی بحران کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر انتہائی کم ہو گئی ہیں اور ماہرین کے مطابق تیل کی قیموتں میں کمی کا یہ سسلہ برقرار رہے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ورلڈ اکنامک آو¿ٹ لک رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستانی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔

ورلڈ اکنامک آو¿ٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہے گی، جس کے باعث پاکستان میں بے روزگاری اگلے دو سال مسلسل بڑھنے کا خدشہ ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں سال بیروزگاری 4.5 فیصد، اگلے سال 5.1 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں گزشتہ مالی سال بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد تھی۔

آئی ایم ایف کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال مہنگائی 11.1 فیصد کی سطح پر رہنے کا امکان ہے، اگلے سال مہنگائی کم ہو کر 8 فیصد کے سنگل ہندسے پر آجائے گی۔عالمی ادارے کے مطابق اگلے سال معاشی شرح نمو میں بھی بہتری کی امید ہے۔ گروتھ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ امسال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 1.7 فیصد، اگلے سال 2. 4 فیصد رہے گا۔

مزید :

بزنس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے