کورونا مرنے کے بعد بھی جان نہ چھوڑے، لاش سے زندہ انسان میں منتقلی کی کتنی صداقت؟ تازہ ترین خبر آگئی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں


تھائی لینڈ اور چین کے سائنسدانوں نے پہلی بار ایک لاش سے نیا نوول کورونا وائرس ایک زندہ انسان میں منتقل ہونے کا کیس دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جریدے جرنل آف فارنسک اینڈ لیگل میڈیسین میں شائع خط میں سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا ایسا پہلا کیس ہے جو ایک فرانزک میڈیسن یونٹ کے عملے کے شامل ایک فرد میں سامنے آیا اور وہ بھی اس بیماری کے نتیجے میں چل بسا۔

سائنسدانوں کو ابھی اندازہ نہیں کہ کورونا وائرس کسی مریض کی موت کے بعد جسم میں کب تک زندہ رہ سکتا ہے اور خط میں کہا گیا کہ تھائی لینڈ میں کووڈ 19 کے مریضوں کی ہلاکت کے بعد عموماً لاشوں کا معائنہ نہیں ہوتا۔

سائنسدانوں نے لکھا اس وقت کووڈ 19 سے ہلاک افراد کی لاشوں کی درست تعداد کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں کیونکہ تھائی لیند میں لاشوں میں کووڈ 19 کا معائنہ نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ فرانزک میڈیسن ماہرین کسی متاثرہ مریض کے نتیجے میں اس وائرس کا شکار ہوجائیں مگر وہ حیاتیاتی نمونوں اور لاشوں سے اس کی زد میں آسکتے ہیں۔



install suchtv android app on google app store

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے